38

معاشرے میں خرابیاں موثر افراد کی خاموشی اور احساس مسولیت نہ ہونے کی وجہ سے ہے. آیت اللہ غلام عباس رئیسی

  • News cod : 36828
  • 02 آگوست 2022 - 22:44
معاشرے میں خرابیاں موثر افراد کی خاموشی اور احساس مسولیت نہ ہونے کی وجہ سے ہے. آیت اللہ غلام عباس رئیسی
انہوں نے مزید کہا کہ بنی امیہ نے بہت ساری احادیث اپنی حمایت میں جعل کیئے اور احادیث کو اپنی حکومت بچانے کے لئے استعمال کیا جیسا کہ معروف ہے کہ "حکومت کے خلاف اٹھنا یعنی دین کے خلاف اٹھنا" اور دین کے خلاف بات کرنے سے انسان واقعا ڈر جاتے ہیں اور مسلمانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی امیہ نے مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے حکومت کی۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے ممتاز عالم دین آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے محرم الحرام کی مناسبت سے مجمع سیدالشہداء العالمیہ قم میں منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب میں کہا کہ اسلام ہمیشہ ظلم کے خلاف اور مظلوم کا حامی رہا ہے. مسلمانوں نے جب بھی کسی سرزمین کو فتح کیا، تو وہاں ظلم نہیں کیا. روم اور ایران جنگوں کی وجہ سے کمزور ہوتے گئے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان عقیدے کے لحاظ سے انتہائی کمزور تھے.
خلیفہ دوم کہتے تهے کہ اگر سب کو عیسائی بنانا چاہوں، تو بنا سکتا ہوں کیونکہ اگر میں بیت المال کو بند کردوں، تو یہ سب عیسائی بن جائیں گے اور امام علی علیہ السلام اس وقت کے مسلمانوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ تم سب ظاہری طور پر مسلمان ہو لیکن ایمان تم سب کا بعثت والے دن کی طرح انتہائی کمزور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بنی امیہ نے بہت ساری احادیث اپنی حمایت میں جعل کیئے اور احادیث کو اپنی حکومت بچانے کے لئے استعمال کیا جیسا کہ معروف ہے کہ “حکومت کے خلاف اٹھنا یعنی دین کے خلاف اٹھنا” اور دین کے خلاف بات کرنے سے انسان واقعا ڈر جاتے ہیں اور مسلمانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی امیہ نے مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے حکومت کی۔ لیکن دوسری طرف آزاد انساں بھی تھے اور انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جہاں کا تابع نہ بنے بلکہ دنیا کو اپنے تابع بنائے، اپنے نظریے کو دنیا میں منوائے اور یہ عملی میدان میں امام خمینیؒ نے ثابت کرکے دکھایا۔
انہوں نے کہا کہ صلح امام حسن علیہ السلام کے بعد حداقل کوفہ والوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ بنی امیہ سب کچھ جھوٹ بول رہے ہیں اور یہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، حکومت کے لئے ہے. لیکن بنی امیہ نے یہ کوشش کی کہ اپنے آپ کو اہل بیت ؑ کا قریبی ثابت کریں اور لوگ ان مسائل سے بے طرف رہے، لوگوں کو احساس ہی نہیں تھا کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے۔ سب خاموش ہوگئے، بڑے بڑے تاثیر گزار لوگ خاموش ہوگئے اور جب معاشرے میں موجود بڑے اور موثر لوگ خاموش ہوگئے تو دوسرے لوگ بھی ان کودیکھ کر خاموش ہوجاتے. دوسرے بهی یہ کہتے ہوئے نظر آتے تهے کہ اگر صحیح ہونے کی امید ہوتی، تو یہ مؤثر لوگ کھڑے ہوجاتے اور یاد رکھیں احساس ذمہ داری انتہائی اہم ہے اور اس کی قدر کرو ایک منظم انداز میں اس کو زندہ رکھنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ انسان بننے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے انسان بننے کے لئے علم کم بھی ہو اور تقویٰ ، پرہیزگاری، بے نظمی کا نہ ہونا اور ظلم ستیزی کی صفات کا موجود ہونا کافی ہے اور روحانی طاقت سے آپ بڑے سے بڑے مشکلات کو شکست دے سکتے ہیں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=36828