پاکستانی فیلڈ مارشل کی ایرانی حکام سے ملاقات، اگلے مذاکراتی دور کا فیصلہ کریں گے، ایران
























جن افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے، اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے سزائیں دلوائی جائیں، اس طرح ماورائے عدالت اقدامات سے ملت جعفریہ میں اضطراب پایا جا رہا ہے
تاریخ گواہ ہے اور خفیہ ایجنسیوں کے سوالات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ لاپتہ شیعہ جوانوں کا سب سے بڑا جرم حسینی ہونا ہے
حافظ ریاض نجفی نے کہا اللہ تعالیٰ نے حق و انصاف اور عدالت کے قیام کے لئے انبیاءؑ کے ساتھ کتابوں کو بھی نازل فرمایاتاکہ سب کے ساتھ انصاف کا برتاﺅ کیا جائے، گھر والوں حتیٰ کہ اپنے ساتھ بھی انصاف کیا جائے یعنی ایسا نہ ہو کہ غلط کاریوں کی بنا پر سزا بھگتنا پڑے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ قرآن پاک نے بنی آدم کو شرف و مقام، عزت و تکریم عطا فرمائی ہے جبری گمشدگی یابغیر کسی وجہ کے قید میں رکھنا توہین انسانیت کے زمرے میں آتاہے
حجۃ الاسلام سید ظفر علی شاہ نقوی نے کہا کہ پاکستان میں قیادت کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قیادت سخت و کشیدہ اور اپنوں کی بے وفائی کے باوجود بھی کس طرح سیرت حسنی پر عمل پیرا ہے، ابھی بھی کس طرح سے قیادت جبری گمشدگیوں کے حوالے سے کام کر رہی ہے و تمام شیعیان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ کسی بھی انسان کو بغیر کسی مقدمہ کے جبری طور پر لاپتہ اور قید رکھنا غیر آئینی ،غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل ہے۔جبری گمشدگی کے کیسوں میں اضافہ ریاست پاکستان اور عوام کے لئے تشویشناک ہے۔
ہم نے حکومت عدلیہ اور سیکورٹی کے اداروں سمیت ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی ہے، جبری گمشدگی انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کسی بھی شہری کی جبری گمشدگی گھناؤنا جرم ہے، اگر کوئی بھی شہری لاپتہ ہو تو ریاست اس کی ذمہ دار ہے، شہریوں کی سکیورٹی اور سیفٹی ریاست کی ذمہ داری ہے،