صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























،عراقی ممتاز عالم دین آیۃ اللہ مدرسی نے عراقی مفکرین،علماء اور اہل بصیرت سے انتخابات میں جیتنے والوں کے انتخابی منشور اور پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے اور عراق کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ایک منصوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انسداد منشیات فورس کے کمانڈر جنرل شبیر احمد نوریجو اپنے ایرانی ہم منصب بریگیڈیئر جنرل مجید کریمی کی دعوت پر اسلامی جمہوریہ ایران کے دورے پر تہران پہنچے ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں اس دنیا میں ابدی آخرت کے لیے تربیت پانا چاہیے، کہا: دین صرف انفرادی دائرہ پر توجہ نہیں دیتا بلکہ دین کے معاشرتی احکام انفرادی قوانین سے اگر زیادہ نہیں ہیں تو کم بھی نہیں ہیں۔
نامعلوم مسلح افراد نے افغانستان کے صوبے فراہ میں ایک شیعہ عالم دین کو گولیاں مار کر شہید کر دیا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا:موسم سرما مومن کی بہار ہے جو اس کی طولانی راتوں میں جاگ کر خدا کی عبادت کرتا اور اس کے چھوٹے دنوں میں روزے رکھتا ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ محمد علی صابریؒ کا تعلق اگرچہ تھماچو تسرسے تھا؛ لیکن ان سے ہماری پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی۔ایک وقت وہ تھا کہ کراچی میں رہنے والے ہمارے علاقے کے اکثرطلباء مختلف مناسبتوں سے ان کے ہاں جاتے ، اور ان سے درس اخلاق کی درخواست کرتے تھے۔ سب انہیں ”آغا صابری“ کہتے تھے، سو ہم نےبھی ”آغا صابری“ کے درس میں شرکت کی ، اور وہی ہماری پہلی ملاقات تھی۔
حضرت زینب سلام الله علیها کی ولادت کے وقت، پیغمبر خدا صلی الله علیه و آله سفر پر تھے، امیرالمؤمنین علیه السلام نے آپ کی نامگذاری کے لیے فرمایا:میں پیغمبر پر سبقت نہیں کرسکتا،یہاں تک کہ آنحضرت (ص) تشریف لائے اور وحی کے منتظر ہوئے، جبرئيل نازل ہوئے اور عرض کیا:اللہ آپ کو سلام کہتا ہےاور ارشاد فرماتا ہے کہ: اس دختر کا نام "زینب” رکھیئے ، کیونکہ اس نام کو ہم نے لوح محفوظ میں تحریر کیا ہے۔
بنت علی حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت اور ایران میں منائے جانے والے یوم تیماردار (نرس ڈے) کی مناسبت سے نرسز اور طبی شعبے کے شہیدوں کے اہل خانہ نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔
کراچی میں تین سال کی دن رات محنت و مزدوری کی تھکاوٹ اور خستگی تو نجف کے گنبدِ طلائی پر پہلی نگاہ میں ہی اتر گئی۔ لیکن علوم ِ دینی کی پیاس نے ابھی تک ان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا تھا۔ لہذا باقاعدہ طور پر نجف کے علمی سمندر کی گہرائی میں غوطہ زن ماہرین کے محضر میں زانوئے تلمذ تہہ کیا اور علوم دینی کا باقاعدہ حصول شروع ہوگیا۔ باب العلم کی بارگاہ میں دس سال کی حاضری میں سب سے زیادہ جن شخصیات نے آپ کو متاثر کیا وہ فیلسوف کبیر آیت اللہ شہید محمد باقر الصدرؒ اور بت شکن زمان رہبر کبیر حضرت امام خمینی ؒ تھے۔