غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























بطورِ مثال یہ ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے:۔ ایک مرتبہ شہید نے شام جانا تھا۔ شہید کے مرتب کردہ شیڈول کے خلاف ایک شہید کی والدہ قاسم سلیمانی سے ملنے آگئی۔ پرواز میں صرف تیس منٹ باقی تھے۔ یقیناً شہید ایک عظیم ہدف کیلئے روانہ ہو رہے تھے۔ پندرہ منٹ کے بعد جناب قاسم سلیمانی کے دوست نے ان سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو جہاز کی پرواز پندرہ منٹ لیٹ کروا دیں۔ آپ نے پوچھا کہ جہاز میں کتنے لوگ سوار ہونگے؟
آج ایران میں اسلامی انقلاب کامیابیوں کی منازل طے کرتا جا رہا ہے۔ ایران کی پُختہ اور معتدل انقلابی قیادت ہر امتحان اور آزمایش میں پوری اُتر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے اندر بھی انقلاب اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں۔ البتہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم آج بھی پیش نماز کے پیچھے تکبیرۃ الاحرام میں "اللہ اکبر خمینی رہبر" اور "مُردہ باد دُشمنِ ولایت فقیہہ" کہنے والے مرحلے پر ہی رُکے ہوئے ہوں۔
ذہانت کے اپنے آداب ہوتے ہیں۔ اُن آداب کی کُنجی نظم و ضبط ہے۔ اُمور کو بروقت انجام دینے سے بہتر کوئی ذہانت نہیں ہوسکتی۔ حمایت کرنی ہو یا مخالفت، تنقید کرنی ہو یا تعریف، دوستی نبھانی ہو یا دشمنی، ہمیشہ بروقت اقدام کیجئے۔ وہ کسان ہی نہیں جو فصل کو اُس کے اپنے موسم میں کاشت نہیں کرتا۔ جو بیج وقت پر نہ بویا جائے، وہ شجرِ سایہ دار کیسے بنے گا۔
انجینئر مرزا محمد علی ایک منفرد آدمی ہیں۔ اُن کی انفرادیت دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ہے۔ ایسے اعترافات سچ بولے بغیر نہیں ہوسکتے۔ سچ بولنے کیلئے بھی ہُنر چاہیئے۔ اسی لئے سچے لوگ ہر جگہ کم ہوتے ہیں۔ اب موجودہ ملکی حالات میں لوگوں سے سچ مخفی ہے۔ بھکاریوں کو سچ سے کوئی زیادہ غرض بھی نہیں۔ اُنہیں تو بس یہی خواب دکھایا جا رہا ہے کہ امریکہ سے بھیک آئے گی تو ہم مزے سے کھائیں گے۔ دوسری طرف امریکی بھی ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں۔
جہانِ اسلام کو خبر ہو یا نہ ہو، عالمی برادری کو بھی یاد ہو یا نہ ہو، آج پانچ جنوری ہے۔ 1949ء کو آج ہی کے دن اقوامِ متحدہ نے ایک انتہائی اہم قرارداد منظور کی تھی۔ اس قرارداد میں کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت تسلیم کیا گیا تھا۔ تاریخی اسناد کے مطابق 1947ء میں ہی کشمیریوں نے علمِ آزادی بلند کر دیا تھا۔
ابھی چند سال پہلے جب مشرق و مغرب میں شیطان کی طاقت کا ڈنکا بج رہا تھا اور چاروں سمت سے شیاطین کے تیروں کا مینہ برس رہا تھا تو ایسے میں قاسم سلیمانی نے بارود کے مُصلّے پر نمازِ عشق ادا کی۔ ہم نے دیکھا کہ قاسم سلیمانی کی اس نمازِ عشق نے طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے خونخواروں کے شکنجے سے بےبس انسانیت کو نجات دلائی۔ قاسم سلیمانی عالمِ بشریت کیلئے شیطان کے مقابلے میں ایک الہیٰ اور آہنی سِپر تھے۔