ایرانی وزیر خارجہ کی دہلی میں برکس اجلاس میں شرکت، 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات
























حمل ٹھرنے کے بعد ضایع کرنا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ ماں کے لیے ضرر رکھتا ہو یا شدید مشقت کا باعث ہو جو معمولا قابل تحمل نہیں ہے، گر چہ یہ مشقت پیدا ہونے کے بعد اس کے پالنے کے حوالے سے ہو تو اس صورت میں روح آنے سے پہلے ضایع کر سکتے ہیں، اور اگر روح آچکی ہو جایز نہیں ہے،گر چہ بنا بر احتیاط واجب مشقت شدید اور ضرر رکھتا ہو اور اگر ماں مستقیم طور پے حمل کو ضایع کرے تو اس پر دیا واجب ہے، اور اسے چاہیٔے کہ باپ یا دوسرے وارثوں کو دیا دے، اور اگر خود باپ ضایع کرے تو اس پر واجب ہے اور وہ ماں یا دوسرے وارثوں کو دیا دے گا، اور اگر ڈاکٹر گرا رہا ہے تو اس پر واجب ہے گر چہ اس نے یہ کام ماں باپ کی درخواست سے ہی کیوں نہ کیا ہو، مگر یہ کہ ڈاکٹر کو وارث معاف کر دیں۔