وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ تخصصی فن خطابت کے سرپرست علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے کہاکہ دور حاضر کا تقاضا یہ ہے کہ فن خطابت کو باضابطہ طور پر دینی مدارس کے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے اور طلاب کی صحیح معنوں میں رہنمائی ہو تاکہ قوم کے یہ معمار تعلیمی مقصد پورا کرسکیں۔یہ بات واضح رہے کہ آج بہترین اور کامیاب مبلغ وہی کہلائے گا جو فن خطابت سے واقف ہو۔
مجمع طلاب شگر کےزیر اہتمام فن خطابت کے ابتدائی مرحلے کو طے کرنے والے خطباء کے درمیان تقسیم اسناد کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر یعقوب بشوی نے مزید کہا؛ اقدار اسلامی کے پھیلاؤ کے لئے سب سے زیادہ مؤثر قدم فن خطابت ہے اب یہ سلسلہ شروع ہوا ہے اور طلباء اس کی ضرورت اور افادیت سے واقف ہو رہے ہیں۔اج کے طالب علم کے لئے فن خطابت نان شب سے بھی زیادہ اہم ہے اے کاش ہم سب اس عظیم حقیقت کو درک کریں! منبر کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دوسرے انبیاء کے حصے میں محراب ہے تو ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں محراب کے ساتھ ساتھ منبر بھی آیا ہے ۔لہذا منبر مقدس ہے اس کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔یہ دین شناسی کا بہترین وسیلہ ہے ۔محراب سے عمل بچے گا منبر سے عمل اور عقیده دونوں بچیں گے۔خطابت کے بغیر ہم گھونگے ہیں ہم اپنی بات کو دوسروں تک منتقل نہیں کرسکتے،خطیب اس فن کے ذریعے ما فی الضمیر کو بطور احسن منتقل کر سکتے ہیں ۔انہی خصوصیات کی بنا پر جو اساتید اس حوالے سے طلاب کی خدمت کررہےہیں وہ قابل ستائش ہیں لیکن ہمارا معاشرہ کسی کو نہیں چهوڑتا! میں آپ کی خدمت میں عرض کروں ہم نے پورے ملک میں اس حوالے سے انقلاب لانا ہے لوگوں کو بتانا ہے کہ خطابت کیا چیز ہوتی ہے اور اس میں کیا کیا راز پوشیدہ ہے ۔بعض لوگ خطابت کو فن سمجھتے ہیں اما حقیقت اس کے برعکس ہے خطابت میں 80فیصد علم کی دخالت ہے علم اور فن کے حسین امتزاج سے خطابت وجود میں آتی ہے۔ابهی یہ ابتدائی مرحلہ ہے ان شاءاللہ بہت جلد ہم فن خطابت کے اگلے تحقیقاتی مراحل شروع کریں گے جو خود اس وادی میں ایک علمی اور مہارتی اعتبار سے بڑی مثبت تبدیلی ہے۔
اس تقریب سے مدرسہ فن خطابت کے استاد حجت الاسلام ڈاکٹر سید ظفر نقوی اور حجت الاسلام سید ناصر زیدی نے بھی خطاب کیا اور مجمع طلاب شگر کے صدر حجت الاسلام محمد علی انصاری نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور آپ نے فن خطابت سے متعلق کوششوں اور اس کے نتائج کو معجزے سے تشبیہ دیا۔
آخر میں مدرسہ فن خطابت کے ابتدائی کورس کو مکمل کرنے والے خطباء کے درمیان اسناد تقسیم ہوئی۔
اس عظیم الشان پروگرام کا ناظم حجت الاسلام عارف حسین حیدر آبادی تهے۔

















