1

“تربیت گاہ زینب کبری گلگت”، دینی درسگاہ کے ساتھ غریب اور یتیم بچیوں کے لئے ایک بہترین سہارا بھی ہے، حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری

  • News cod : 17740
  • 22 می 2021 - 16:11
“تربیت گاہ زینب کبری گلگت”، دینی درسگاہ کے ساتھ غریب اور یتیم بچیوں کے لئے ایک بہترین سہارا بھی ہے، حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری
تربیت گاہ زینب کبری گلگت کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری حوزہ علمیہ قم المقدسہ کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت گلگت میں نائب امام جمعہ و الجماعت کے عنوان سے اپنے فرائص انجام دے رہے ہیں۔ اس ادارے میں ان کی اہلیہ بھی ان کی معاونت کر رہی ہیں جو مکتب نرجس مشہد المقدس کی فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے احکام،شبہات کے جوابات اور مہدویت میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ تربیت گاہ زینب کبریٰ کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری سے اپنے ادارے کی کارکردگی اور فعالیتوں کے حوالے سے وفاق ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ 2017 میں قائم ہوا اور گلگت سنٹر میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہا ہے جس کا مقصد گلگت بلتستان کے علاوہ پورے پاکستان سے غریب اور یتیم بچیوں کی تربیت اور سرپرستی کرنا ہے۔ جہاں حوزوی تعلیم کے علاوہ مروجہ تعلیم کا بھی بہترین انتظام موجود ہے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، “تربیت گاہ زینب کبری “پاکستان کے شہر گلگت میں کئی سالوں سے دین مبین اسلام کی خدمت میں مشغول ہے۔ یہ ایک دینی درسگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ یتیم بچیوں کے لئے ایک بہترین سہارا بھی ہے ۔ الحمد للہ یہ ادارہ غریب اور بے سہارا افراد کی رہنمائی میں پیش پیش ہے۔

تربیت گاہ زینب کبری گلگت کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری حوزہ علمیہ قم المقدسہ اور مشہد المقدس کے فارغ التحصیل ہیں۔ اس ادارے میں ان کی اہلیہ بھی ان کی معاونت کر رہی ہیں جو مکتب نرجس مشہد المقدس کی فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے احکام،شبہات کے جوابات اور مہدویت میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔
تربیت گاہ زینب کبریٰ کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری نے اپنے ادارے کی کارکردگی اور فعالیتوں کے حوالے سے وفاق ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ 2017 میں قائم ہوا اور گلگت سنٹر میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہا ہے جس کا مقصد گلگت بلتستان کے علاوہ پورے پاکستان سے غریب اور یتیم بچیوں کی تربیت اور سرپرستی کرنا ہے۔ جہاں حوزوی تعلیم کے علاوہ مروجہ تعلیم کا بھی بہترین انتظام موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال یہاں 45 بچیاں زیر تعلیم ہیں۔اس کے علاوہ ادارے کے تحت ایک ہاسٹل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جس میں بچیوں کو صبح کے وقت سکولوں اور کالجوں میں بھیجا جاتا ہے جبکہ شام کے وقت مدرسے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مدرسے کا تعلیمی نظام بالکل حوزی نظام کے تحت ہے جس میں فقہ، قرآن اور دیگر اسلامی موضوعات کی تدریس کی جاتی ہے۔ادارے کا ایک خصوصی امتیاز یہ ہے کہ یہاں پر بچیوں کی رہائش کا دورانیہ مشخص نہیں ہے ، بلکہ جب تک ان کی شادی بیاہ وغیرہ کے ذریعے ان کی کفالت کا کوئی بہتر انتظام نہ ہوجائے ، یا کسی دوسری جگہ اعلیٰ تعلیم کے لئے نہ بھیجا جائے ، اس وقت تک یہ بچیاں ادارے میں رہ سکتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مدیر “تربیت گاہ زینب کبری “پاکستان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے لئے مخلص ہونا ضروری ہے۔ انہیں چاہئے کہ اپنی ڈیوٹی کے علاوہ بھی استاد اور شاگردی کے رشتے کے پیش نظر طلباء و طالبات کی تعلیمی مشکلات کو حل کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہیں۔ استاد کو اخلاق حسنہ کا مجسمہ ہونا چاہئے تاکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ شاگردوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ دے سکے، ورنہ آج کے دور میں کسی کی اخلاقی تربیت کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اگر استاد اپنے شاگرد کی اخلاقی تربیت نہ کر پائے تو وہ ایک ناکام استاد شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے آخر میں وفاق ٹائمز کے لئے قبلہ قاضی صاحب مرحوم کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے اس کام کے ذریعے دینی مدارس کی ترجمانی کا بیڑہ اٹھایا ۔ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=17740