0

حضرت ولی عصر علیہ السلام کے تسمیہ اور نام شریف کو ذکر کرنے کا حکم

  • News cod : 18179
  • 02 ژوئن 2021 - 12:25
حضرت ولی عصر علیہ السلام کے تسمیہ اور نام شریف کو ذکر کرنے کا حکم
جب امام علی بن الحسین علیہ السلام نے شہادت پائی ۔ امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت کی خدمت میں عرض کی : آپ پر قربان جاوں! آپ جانتے ہیں کہ میرا آپ کے والد کے علاوہ کوئی نہ تھا اور آپ میرے ان سے انس اور لوگوں سے دوری کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔

 پہلی قسط :

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)

حدیث اور فقہی قواعد کی کتب کے بعض ابواب میں تسمیہ کا موضوع بیان ہواہے ۔

اس تحریر میں سب سے پہلے اس موضوع کو “حدیث شناسی ” کی جہت سے مورد تجزیہ قرار دیں گے، پھر اس کے حکم کو اخذ کیا جائے گا۔

تسمیہ کا حکم اور حضرت بقیۃ اللہ (عج) کا مخصوص نام “م ، ح، م، د ” لینے کے حوالے سے (نہ کہ دیگر نام و القاب )

سینکڑوں روایات وارد ہوئی ہیں کہ انہیں چار اقسام میں تقسیم کیا جا سکتاہے :

پہلی قسم :وہ روایات ہیں کہ جو بغیر کسی قید و شرط مثلا خوف، تقیہ کے بطور مطلق حضرت کا نام لینے سے منع کرتی ہیں۔

امام نقی علیہ السلام فرماتے ہیں :”لَا یحلّ لکم ذکرہ باسمِہ” ؛تم لوگوں کے لئے ان(حضرت مہدی علیہ السلام ) کا نام کے ساتھ ذکر جائز نہیں ہے۔( اصول کافی، ج ۱، ص ۳۲۲)

اس حدیث میں کسی قید کا وجود نہیں ہے اور بطور مطلق نہی ہوئی ہے ۔

نیز امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا :”لا یُسمّیہ باسمِہ إلّا کافر “؛سوائے کافر کے کوئی ان کا نام نہیں لے گا۔ (اصول کافی، ج ۱، ص ۳۳۳، ح ۴)

اس حدیث میں بھی کوئی قید و شرط ذکر نہیں ہوئی۔

دوسری قسم: وہ روایات ہیں کہ جو حضرت (عج)کے نام شریف کو زمانہ ظہور تک،ذکر کرنے سے نہی کرتی ہیں ۔   عبدالعظیم الحسنی نے امام نقی علیہ السلام سے نقل کیا :

“۔ ۔ ۔ لا یَحلّ ذکرہ باسمہ حتّی یخرج فَیملأ الأرضَ قسطاً و عدلًا کمَا ملئت ظُلماً و جورًا۔ ۔ ۔ ”

جائز نہیں کہ حضرت کا نام سے ذکر ہو یہاں تک کہ آپ ظہور فرمائیں اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں ،جس طرح کہ ظلم و ستم سے بھری ہو ئی ہو ۔ (وسائل الشیعہ، ج ۷، ص ۴۸۸)

تیسری قسم :وہ روایات جو علت اور وجہ بیان کرتی ہیں اور حضرت کے نام شریف کے ذکر کرنے کی ممنوعیت کی وجہ تقیہ، خوف اور دیگر وجوہات بیان کرتی ہیں۔

روایت ابو خالد کابلی میں آیا ہے کہ :

لمّا مضی علی بن الحُسین علیہ السلام ، دخلتُ علَی الباقر ؑ فقلتُ : جُعلتُ فداک، قَد عرفتَ إنقطاعی الی أبیکَ وانسی بِہ وَ وحشَتی منَ الناس۔ قالَ ؑ : صدقتَ یَا ابا خَالد ! فَترید مَاذا ؟ قلتُ : جُعلتُ فداک ، لقَد وصفَ لی ابوکَ، ،صاحب ھٰذ الأمر بصفَّۃ لَو رأیتہ فِی بعضِ الطّرق ،لأخذت بِیدہ، قالَ ؑ : فَترید مَا ذا یَا ابا خَالد ؟ قلتُ : أریدُ أن تَسمیہ حتّٰی أعرفَہ باسمِہ۔ فقال ؑ : سألتنی وَاللہ یا اَبا خَالد عَن سوال مجھد، ولَقد سَألتنی بأمرٍ (مَا کنت مُحدِّثاً بہ احداً ، لحدّثتک) ولقَد سألتنی عَن أمر ، لَو انّ بنی فَاطمۃ عرفُوہ ، حَرصُو ا عَلی أن یُقطّعُوہ بضعۃً، بضعۃً ؛( غیبت نعمانی، باب ۱۶، ح ۲)

جب امام علی بن الحسین علیہ السلام نے شہادت پائی ۔ امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت کی خدمت میں عرض کی : آپ پر قربان جاوں! آپ جانتے ہیں کہ میرا آپ کے والد کے علاوہ کوئی نہ تھا اور آپ میرے ان سے انس اور لوگوں سے دوری کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔

فرمایا :ابا خالد تم صحیح کہتے ہو؛ لیکن تمہارا مقصود کیا ہے ؟ میں نے عرض کی :آپ پر قربان جاوں! آپ کے والد نے میرے لئے صاحب الامر کی یوں توصیف کی کہ اگر انہیں راستے میں دیکھ لوں، تو یقین سے ان کا ہاتھ پکڑ لوں گا ۔ فرمایا: ابا خالد تم اور کیا چاہتے ہو ؟ عرض کی : میں چاہتا ہوں کہ مجھے ان کا نام بتائیں تاکہ میں انہیں نام کے ساتھ پہچانوں۔ فرمایا : ابا خالد خدا کی قسم! تم نے مجھ سے سخت سوال کیا کہ جو مجھے زحمت میں ڈالنے والا ہے ۔ ایسے موضوع کے بارے میں پوچھا کہ میں نے کبھی بھی کسی کو نہیں بتایا اگر کسی کو بتایا ہوتا تو یقینا تمہیں بھی بتاتا ۔تم نے مجھ سے وہ چیز پوچھی کہ اگر بنی فاطمہ انہیں پہچان لیں ،تو سخت کوشش کریں گے کہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔

: ابو خالد کابلی کا مقام:

علامہ کشی کہتے ہیں : ابو خالد کابلی کا نام “وردان ” اوراس کی کنیت “کنکر ” تھی اور یہ امام زین العابدین علیہ السلام کے مخلص حواریوں اور اصحاب میں سے تھے ۔ اور فضل بن شاذان کہتے ہیں کہ امام علی بن الحسن علیہ السلام کے پانچ صدیق اصحاب تھے کہ جن میں ایک وردان ابو خالد کابلی تھے ۔( خاتمہ ، وسائل الشیعہ، ج ۳۰، ص ۲۳۶، ۵۰۲)

اس حدیث میں حضرت کا نام نہ لینے کی علت خوف و تقیہ بتایا گیا ہے ۔ جہاں بھی علت بیان ہوئی ہے وہ حکم کو بھی شامل ہے اور اسے خاص کرتی ہے ۔

پس جہاں تقیہ ہو ،وہاں صرف حضرت کا نام نہیں ؛بلکہ دیگر ہستیوں کا نام بھی نہیں لیا جا سکتا۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

علی ؑ و فاطمہ ؑ کا نام نہ لو کیونکہ ایک گروہ ان کے نام لینے سے خوش نہیں ہوتے اور تمہیں تکلیف پہنچائیں گے۔ ( وسائل الشیعہ، ج ۱۶، ص ۲۳۸، ب ۳۳، ح ۲)

(جاری ہے)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18179