3

مسجد ہمارا ابتدائی مرکز اور نوجوانوں کی پہلی اجتماعی تربیت گاہ ہے، علامہ سید محمد حسن نقوی

  • News cod : 19332
  • 06 جولای 2021 - 12:50
مسجد ہمارا ابتدائی مرکز اور نوجوانوں کی پہلی اجتماعی تربیت گاہ ہے، علامہ سید محمد حسن نقوی
حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد حسن نقوی نے پاکستان کے دینی مدارس میں طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشکلات اور ان کا راہ حل کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اعلی تعلیم کے حصول کے اسباب کیلئے سب سے پہلی چیز ایسی فضا میسر ہو جس میں طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں ہر فن کے ماہر اساتذہ موجود ہو ، فقہ و اصول ، تفسیر، کلام، فلسفہ، منطق، اور جدید علوم اس علمی فضا میں تمام علوم سے متعلق کتب کی دسترسی حاصل ہوں، لائبریری اور پر سکون علمی ماحول ہو جس میں طالب علم ترقی کرسکے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ الامام المنتظر قم کے پرنسپل اور نیوز ایجنسی وفاق ٹائمز کے منیجنگ ڈائریکٹر حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد حسن نقوی نے انجمن علمی و پژوهشی فقہ و معارف اسلامی کے زیر اہتمام مدرسہ الامام المنتظر قم میں “پاکستان کے دینی مدارس میں طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشکلات اور ان کا راہ حل” کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اعلی تعلیم کے حصول کے اسباب کیلئے سب سے پہلی چیز ایسی فضا میسر ہو جس میں طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں ہر فن کے ماہر اساتذہ موجود ہو ، فقہ و اصول ، تفسیر، کلام، فلسفہ، منطق، اور جدید علوم اس علمی فضا میں تمام علوم سے متعلق کتب کی دسترسی حاصل ہوں، لائبریری اور پر سکون علمی ماحول ہو جس میں طالب علم ترقی کرسکے۔ہمارے ملک میں اگر مرجعت اور اجتہاد کا سلسلہ شروع ہوجائے اس ذریعہ فضلا کی سرپرستی ہوگئی علمی ماحول اور علمی فضا پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں رکاوٹیں ختم ہو سکتی ہے۔ان شاء اللہ، اللہ سے دعا گو ہیں کہ ہمارےملک میں جو دروس خارج کا سلسلہ شروع ہوا ہے یہ اجتہاد اور مرجعیت کی طرف ایک موثر قدم ثابت ہوگا۔

انہوں نے مدارس میں طلاب کی عدم توجہ کے عوامل کے حوالے سے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دو اہم عوامی مرکز اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے اس وجہ سے مدارس کی طرف طلاب کی توجہ نہیں ہے۔1۔ مساجد اگر مساجد اپنا بنیادی کردار ادا کرتے و مدارس کے لئے معاون ثابت ہوتے ۔ مساجد ہمارا پہلا عمومی مرکز ہے جو نوجوانوں کی پہلی اجتماعی تربیت گاہ ہے بلکہ مساجد ہمارا عوامی مدرسہ ہے جہاں عوام الناس احکام، اعتقادات، اخلاقیات، اجتماعات اور دینی و سیاسی بصیرت کا فہم و ادراک کا مرکز مساجد ہیں۔ اگر ہمارے پیش نماز حضرات اپنی اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرے تو لوگوں کی صحیح تربیت ہوسکتی ہے۔ والد محترم حضرت حجت الاسلام والمسلمین قبلہ قاضی صاحب کی طرف سے مجمع اہل بیت کے عنوان سے اسلام اآباد کے مبلغان ٹریٹ سیداں میں ائمہ جمعہ و جماعت کیلئے شارٹ کورس کے حوالے پروگرام رکھاگیا اس پروگرام کے اختتام پر علامہ شیخ محسن علی نجفی حفظہ اللہ نے ان تمام حضرات کی دعوت کی جس میں حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کو بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی قبلہ صاحب نے فرمایا میں نے اسی اجتماع میں پیش نماز حضرات سے تین سوال کئے۔

1۔ صبح کی نماز کے بعد آپ میں کتنے افراد درس تفسیر دیتے ہیں؟ چندان نفر نے ہاتھ اٹھایا۔
2۔ دوسرا سوال نماز مغربین کے بعد آپ میں سے کتنے افراد ہے جو مسائل شرعی بیان کرتے ہیں؟ چندان نفر نے ہاتھ اٹھایا۔
3۔ تیسرا سوال خطبہ جمع ہ کتنے افراد اردو زبان میں بیان کرتے ہیں۔؟ چند افراد نے ہاتھ اٹھایا۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ ہمارے پہلے مرکز کا تربیتی کردار ہے کسی نے اصلاح کرنی ہے یہ کیسے ممکن ہے۔ اس کا راہ حل یہ ہے کہ پیش نماز حضرات کیلئے چند ماہ کا تربیتی کورس مسجد چلانے، مسجد کو فعال کرنے کیلئے موثر اقدامات ضروری ہے۔تاکہ ہماری مساجد فعال اور اس کا بنیادی اثر اجتماع میں لوگوں کے گھروں میں دینی مدارس میں ظاہر ہو۔ ایک اور اہم نکتہ معاشرہ کے ماحول کو اعتقادی اور اخلاقی حوالے سے سازگار رکھنا پیش نماز کی ذمہ داریوں میں سے ہیں۔

وفاق ٹائمز کے منیجنگ ڈائریکٹر نے پیش نماز کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کہا کہ پیش نماز اگر ذمہ دار فرد ہو تو اپنے علاقے میں غلط عقاید کے رواج پر ایکشن لے گا، غلو نہیں پھلانے دے گا کہ ایک مجلس کے ذریعہ کسی مولوی اور ذاکر نے اگر اعتقادی حوالے سے اخلاقی حوالے سے کوئی غلط بات کہے تو اس علاقے کے لوگ اس ذاکر یا مولوی کو روکے اور اسے مجلس پڑھنے سے منع کریں یہ ہے پیش نماز کا کردار۔
1۔ آج اگر بعض دینی مدارس کامیاب جارہے ہیں ان کی کامیابی کی بنیادی وجہ شارٹ کورس ہیں۔ گرمیوں میں دوماہ کا شارٹ کورس کرواتے ہیں جس میں مدارس کی تعداد بڑھ جاتتی ہے اسی شاٹ کورس کو اگر پیش نماز حضرات علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر کروائے تو یہ پیش نماز مدارس اور علاقے کیلئے موثر قدم اٹھا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں مواقع بہت زیادہ سازگار ہیں اگر ہم ان سے صحیح فائدہ اٹھائے یقینا کامیاب ہوسکتے ہیں۔
2۔ استاد العلماء حضرت آیت اللہ سید محمد یار شاہ صاحب قبلہ فرماتے تھے کہ مجالس دینی مدرسہ ہیں مہم اس منبر اور مجالس کے ذریعہ لوگوں کی دینی فکری تربیت کرسکتے اور منبر پر جانے والے اگر لوگوں کے دلوں میں بصیرت ، فہم و ادراک میسر کرتے تو ہمارے دینی مدارس اس بے توجہی کا شکار نہ ہوتے لیکن آج ہمارے منبر پر اغیار کا غلبہ ہے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ کام کرنے کی ضرورت ذمہ دار افراد تیار کرکے منبر پر لائے جائے اگر اس میں ہم کامیاب ہوگئے اور منبر کی اصلاح کی تو ہمارے مدارس میں رونق واپس آئے گی۔
ہمارے نوجوان مدارس کی تعلیم سے کیوں کتراتے ہیں؟ہمارے مدارس دینیہ کا جو ماحول ہے اس میں تبدیلی آنی چاہئے جو طالبعلم مدرسہ میں داخل ہوتا ہے ایک مدرس یا پرنسپل والدین اور طالبعلم سے تفصیل سے گفتگو کریں مدرسہ کا ماحول بتائے اسے آگاہی ہو مدرسہ کا ماحول کیا اس میں کیا تعلیم دی جارہی ہے اس تعلیم سے ہدف و مقصد کیا ہے اور اس تعلیم کا مصرف کیا ہے طالبعلم کا مستقبل کیا ہوگا اگر صحیح معنوں میں طالبعلم کو یہ معلومات دی جائے تو طالبعلم روش افق سامنے رکھ کر بہتر انداز میں تعلیم حاصل کرئے گا۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ اہل سنت کے مقابلے میں اہل تشیع کے مدارس میں طالب علم کی تعداد کم ہے اس کی اسباب کیا ہیں؟ کیا اس تعداد کو بڑھانے کا راہ حل ہے؟ کہا کہ اہلسنت تعداد کے حوالے سے ہم سے بہت زیادہ ہیں۔ یقینا ان کے مدارس کی تعداد بھی زیادہ ہیں ہمارے مدارس کی تعداد کم نہیں تقریبا ہر تحصیل اور ضلع میں ہمارے مدارس موجود ہیں بلکہ اکثر تحصیل اور ضلعوں میں کافی تعداد ہے اس تفصیل میں ایک نکتہ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر ہم اپنے ماضی کو دیکھے جب پاکستان بھارت سے علیحدہ ہوا تھا ہمارے پاس کتنے دینی مدارس تھے؟ کتنی مساجد تھی لیکن آج ہمارے مدارس دینیہ امام بارگاہ اور علمی مراکز کتنے ہیں؟ ہمارے ملک میں کام ہوا ہے علما نے محنت کی آج ہم گذشتہ محنتوں کا ثمر دیکھ رہے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں گذشتہ علماء اور بزرگان کی سیرت کو اپناتے ہوئے ہم حوصلہ بلند کررکے مزید آگے بڑھنا چاہئے اور وہ بھی علم اور عمل کے ذریعہ ۔ اگر ہم علم اور تقوی کے زیور سے آراستہ ہوکر محنت کریں اپنا عمل اور کردار دیکھا ئیں تو مومنین ہمارا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نےآخر میں کہا کہ آج ہم جدید تقاضوں کے مطابق علمی پیش رفت کریں، جدید تقاضون کے مطابق اپنے علمی مراکز کو پیش رفت کی طرف لے جائے تو یقینا کامیاب ہوں گے اور مومنین بھی ہمارا ساتھ دینگے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=19332