2

آیت اللہ العظمیٰ سید محمدرضا گلپائیگانی، شاہ کی مخالفت سے لندن اسلامک سنٹر کی تاسیس تک /مختصر رپورٹ

  • News cod : 19398
  • 09 جولای 2021 - 14:33
آیت اللہ العظمیٰ سید محمدرضا گلپائیگانی، شاہ کی مخالفت سے لندن اسلامک سنٹر کی تاسیس تک /مختصر رپورٹ
آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائیگانی (1899۔1993 ء) شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے۔ آپ آیت اللہ بروجردی کی وفات کے بعد مرجعیت کے مقام پر فائز ہوئے۔ آپ آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی کے شاگردوں میں سے تھے۔ آیت اللہ مرتضی حائری، آیت اللہ یزدی، استاد شہید مرتضی مطہری، سید محمد حسینی بہشتی، لطف‌ الله صافی گلپایگانی اورآیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔

وفاق ٹائمز|آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائیگانی (1899۔1993 ء) شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے۔ آپ آیت اللہ بروجردی کی وفات کے بعد مرجعیت کے مقام پر فائز ہوئے۔ آپ آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی کے شاگردوں میں سے تھے۔ آیت اللہ مرتضی حائری، آیت اللہ یزدی، استاد شہید مرتضی مطہری، سید محمد حسینی بہشتی، لطف‌ الله صافی گلپایگانی اورآیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ گلپایگانی نے 15 خرداد کی تحریک میں قتل عام، سانحہ فیضیہ، امام خمینیؒ کی گرفتاری اور جلاوطنی جیسے پہلوی حکومت کے اقدامات کی مخالفت کی۔ آپ کی تالیفات میں تقریباً 40 کتابیں موجود ہیں۔
ہسپتال، دینی مدارس، دار القرآن اور مجمع اسلامی لندن کی تاسیس آپ کے فلاحی کاموں میں سے ہیں۔
طالب علمی کا دور
آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائیگانی 8 ذی القعدہ سنہ 1316 ھ کو ایران کے شہر گلپائیگان سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گوگد نامی گاوں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید محمد باقر روحانی تھا اور اپنے گاوں میں امام کے لقب سے مشہور تھے۔ تین سال کی عمر میں والدہ اور 9 سال کی عمر میں والد کے سائے سے محروم ہوگئے۔
آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپایگانی نے حوزہ کے سطوح کی تعلیم گلپائیگان میں سید محمد حسن خوانساری (سید احمد خوانساری کے بڑے بھائی) اور آخوند خراسانی کے شاگرد محمد تقی گوگدی گلپایگانی سے حاصل کی۔اس کے بعد اراک چلے گئے اور وہاں شیخ عبد الکریم حائری کے دروس میں شرکت کی۔ جب عبد الکریم یزدی نے قم کی طرف ہجرت کی تو آپ بھی چار سال اراک میں گزارنے کے بعد ان کے ساتھ قم آ گئے اور مدرسہ فیضیہ میں مقیم ہوئے۔
آیت اللہ حائری کی وفات کے بعد آپ نجف چلے گئے اور تین مہینے تک ضیاء الدین عراقی اور سید ابو الحسن اصفہانی کے درس میں شرکت کی۔جبکہ میرزا نائینی اور سید ابو الحسن اصفہانی کے قم میں قیام کے دوران 8 مہینے ان کے درس میں شرکت کی۔ اور اسی طرح آپ سیدحسین بروجردی کے درس میں بھی شرکت کیا کرتے تھے۔
قم میں آپ سید احمد خوانساری کے ہم کلاسی تھے۔
علمی منزلت
آپ نے عبدالکریم حائری سے اجتہاد کی اجازت حاصل کی اور رضا مسجد شاہی اور شیخ عباس قمی سے اجازہ روایت حاصل کیا۔آپ عبد الکریم حائری یزدی کے استفتاء کے گروہ میں سے تھے۔آیت اللہ حائری یزدی نے اپنی کتابُ الصلاة کی تصحیح آپ اور آیت‌ الله اراکی کے سپرد کی۔

آیت‌الله بروجردی کی وفات کے بعد آپ 1340 شمسی میں مرجع تقلید بنے۔1372 شمسی تک آپ 32 سال مرجعیت کے منصب پر فائز رہے۔آپ تقریبا 75 سال حوزہ کے دروس تدریس کرتے رہے جن میں سے 60 سال فقہ اور اصول فقہ کا درس خارج دیا۔ آپ کا درس خارج پررونق‌ ترین دروس میں سے تھا۔
سیاسی زندگی
آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائیگانی اگرچہ پہلوی حکومت کو نامشروع سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود علنی طور پر اس کا مقابلہ کرنا مصلحت نہیں سمجھتے تھے اور حتی الامکان سیاسی سرگرمیوں سے اجتناب کرتے تھے۔آبراہیمیان اپنی کتاب ایران بین دو انقلاب میں انہیں میانہ رو مرجع تقلید مانتے ہیں جو حکومت کی نابودی کے خواہاں نہیں تھے اورصرف سیاست میں اعتدال کے خواہاں تھے۔ اس کے باوجود گلپائیگانی کو ایک امام خمینی کی تحریک میں ایک موثر شخصیت مانتے ہیں۔آپ نے 1341 شمسی سے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی تک پہلوی حکومت کے بہت سارے فیصلوں کی مخالف کی۔ 1341 ش کو ایران کے دوسرے مراجع تقلید جیسے سید احمد خوانساری، سید محسن حکیم اور مرعشی نجفی کے ہمراہ اصلاحات اراضی کے بل کے بارے میں ایک ٹلیگراف کے ذریعے اپنی مخالفت کا اعلان کیا۔اسی سال آپ اور دیگر مراجع تقلید نے شاہ کو ٹلیگرام کے ذریعے صوبائی کونسل بل کو شریعت کے منافی قانون قرار دیا۔ گلپائیگانی نے 1341 شمسی کو محمد رضا پہلوی کی طرف سے اعلان شدہ استصواب رائےمیں لوگوں کی شرکت کو حرام قرار دیا۔


اسی طرح سانحہ فیضیہ کے اعتراض میں دروس کی چھٹی، 15 خرداد کے قیام میں عام لوگوں کے قتل عام اور امام خمینی اور بعض دیگر علماء کی گرفتاری کے خلاف بیانیہ دینا، امام خمینی کی ترکی جلاوطنی پر دربار کے وزیر کو قم بلانا، محمد رضا پہلوی کی طرف سے ترویج پانے والی رستاخیز پارٹی میں شمولیت کو حرام قرار دینا، بادشاہ کی طرف سے دینی حکومتی ادارے بنانے کے اقدام کی مخالف میں حوزہ علمیہ کے استقلال کا دفاع، تاریخ ہجری کو تاریخ شہنشاہی میں تبدیل کرنے پر مخالفت، گورنمنٹ کی طرف سے حساسیت کے باوجود مصطفی خمینی کے لیے مجلس ترحیم کا انعقاد، روزنامہ اطلاعات میں امام خمینی کی توہین پر ان کے خلاف تقریر اور 19 دی کے قیام میں لوگوں کے قتل عام کے خلاف ایک ہفتہ درس کی چھٹی، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے پہلے آپ کی سیاسی سرگرمیوں میں سے بعض ہیں۔
گلپائیگانی نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد جمہوری اسلامی ایران کی حمایت کی اور ان کے ساتھ اچھا رابطہ رکھا۔
سماجی و فلاحی خدمات
حوزہ علمیہ کے درسی نظام میں تبدیلی، مجمع اسلامی لندن، دار القرآن الکریم، قم میں آیت ‌الله گلپائیگانی ہسپتال، دینی مدارس اور مرکز مُعجَم‌ المسائل‌ الفقہیۃ کی تاسیس آپ کی خدمات میں سے بعض ہیں۔ آپ کے بیٹے سید جواد گلپائیگانی کے بقول حوزہ علمیہ قم کے تعلیمی نظام میں تحول ایجاد کر کے طلاب سے امتحانات لینے کیلئے ایک باقاعدہ پروگرام، حوزہ علمیہ کے مدارس کی جدید طرز پر تعمیر، طلاب کی سکونت کیلئے قدیم مدارس کی مرمت اور جدید مدارس کی تعمیر، محققین کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی خاطر مرکز معجم فقہی کی تأسیس، آپ کی بعض ثقافتی فعالیت میں شمار ہوتے ہیں۔

مجمع جہانی اسلام
1974 ء میں لندن اسلامک سنٹر (Islamic Universal Association) قائم کیا جو دین اسلام کی ترویج اور شیعہ مذہب سے آشنائی کے لیے بنایا گیا اور اسی طرح ایران میں پہلے دار القرآن الکریم کا قیام عمل میں لایا جس میں قرآن مجید کا ترجمہ، طباعت اور نشر کا کام ہونے لگا اور قرآن مجید سے مخصوص لائبریری اور میوزیم بھی قائم کیا جس میں قلمی اور مطبوعہ نسخوں کی جمع آوری ہوگئی۔
وفات
آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائیگانی نے 24 جمادی الثانی 1414 ھ بمطابق 9 دسمبر 1993 میں 98 سال کی عمر میں قم میں وفات پائی۔ جمہوری اسلامی ایران کی اس وقت کی حکومت نے سات روز سوگ کا اعلان کیا اور ایک دن پورے ملک میں چھٹی کی۔آپ کا جسد خاکی پہلے تہران اور پھر قم میں نماز جنازہ ہوا اور آپ حرم حضرت معصومہ ؑمیں دفن ہوئے۔ جمہوری اسلامی ایران کے رہبر سید علی خامنہ ای نے تہران میں آپ کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=19398