1

غیبت امام مہدی عج(قسط 14)

  • News cod : 22442
  • 14 سپتامبر 2021 - 13:21
غیبت امام مہدی عج(قسط 14)
حضرت موسی علیہ السلام نے اس وقت تک قیام نہیں کیا جب تک بنی اسرائیل میں پچاس ایسے کذّاب ظاہر ہوئے کہ ان سب کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ موسی بن عمران ہیں۔

سلسلہ بحث مہدویت
گذشتہ سے پیوستہ

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)
حضرت موسی علیہ السلام : امیر المؤمنین علیہ السلام نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حضرت یوسف علیہ السلام کا وقت وفات آپہنچا تو انہوں نے اپنے پیروکاروں اور خاندان والوں کو جمع کیا اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا بجالائے اور پھر انہیں فرمايا: ان پر ایک نہایت سخت دور آئے گا٬ ان کے مردوں کو قتل کیا جائے گا اور ان کی حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کئے جائے گے اور بچوں کے سر جدا کئے جائیں گے٬ یہاں تک کہ اللہ تعالی لاوی بن یعقوب کی اولاد میں سے ایک قائم میں حق کو آشکار کرے گا٬ وہ گندمی رنگت اور بلند قامت مرد ہوں گے اور ان کی صفات بيان کيں پھر ان لوگوں نے اس وصیت کو یاد رکھا یہاں تک کہ بنی اسرائیل پر غیبت اور مصائب کا زمانہ آیا کہ وہ چار سو سال تک قائم کے قیام کے منتظر رہے پھر انہیں قائم کی ولادت کی بشارت دی گئی اور انہوں نے ان کے ظہور کی علامات کا مشاہدہ کیا جب ان پر مصائب بڑھے تو انہوں نے سنگ و چوب سے (بيان کرنے والے)ان پر حملہ کیا اور وہ عالم دین کہ جس کی باتوں سے انہیں اطمینان حاصل ہوتا تھاے پیچھے لگ گئے اور وہ مخفی ہوگیا ٬انہوں نے اس سے خط و کتابت کی اور کہا ہم پریشانیوں اور مشکلات میں تمہاری باتوں سے سکون و اطمینان حاصل کرتے تھے ٬تو وہ عالم دین انہیں صحراء میں لے گیا اور وہاں ان سے نشست و برخاست کي اور قائم کي ذات٬ اس کي صفات اور ان کے نزديک ميں ظہورکے بارے میں گفتگو کی۔ وہ چاندنی رات تھی اس وقت وہاں حضرت موسی چلے آئے وہ اس وقت نوجوان تھے اور فرعون کے محل سے سيرگاہ کے عقب سے آئے اور اس فقیہ نے انہیں دیکھا اور ان کی صفات کو پہچانا تو اٹھ کر ان کے قدموں میں گرگیا اور ان کے پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا: شکرہے اس خدا کا کہ جو مجھے اس قت تک دنیا سے نہ لے گیا کہ آپ کی زیارت کروادی٬ جب اس کے پیروکاروں نے یہ منظر دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ وہی حجت خداہیں توسب سجدہ شکر میں گر پڑے ٬ حضرت موسی علیہ السلام نے صرف یہ کہا کہ مجھے امید سے اللہ تعالی تمہاری مشکلات سے رہائی میں جلدی کرے گا ٬اس کے بعد وہ غائب ہوگئے اور شہرمدینہ چلے گئے اور کئی سال تک حضرت شعیب کے پاس رہے یہ دوسری غیبت پہلی غیبت سے بھی زیادہ سخت تھی۔
ابوبصیر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ حضرت نے فرمایا: حضرت موسی علیہ السلام نے اس وقت تک قیام نہیں کیا جب تک بنی اسرائیل میں پچاس ایسے کذّاب ظاہر ہوئے کہ ان سب کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ موسی بن عمران ہیں۔
حضرت ادریس علیہ السلام کی غیبت:
روایات کی رو سے انبیاء علیہم السلام میں سب سے پہلے حضرت ادریس ع نے غیبت اختیار کی وہ بیس سال تک اپنی گمراہ امت کے خوف سے پردہ غیبت میں رہے, جو کہ ان کی ھدایت و تبلیغ کے مدمقابل ان سے لڑنے جھگڑنے لگی اور انہیں قتل کرنا چاہتی تھی.
تاریخ کی رو سے حضرت ادریس ع لوگوں کی نگاہوں سے دور ایک بلند پہاڑ کی غار میں عبادت اور روزہ داری میں مشغول رہے.
لوگ ان بیس سالوں میں قحط اور مختلف مصائب کا شکار ہوئے اور سب بڑی مصیبت طاعون تھا جس نے بہت سے لوگوں کو ھلاک کیا. اس زمانے کے ظالم حکمرانوں نے بہت زیادہ قتل عام کیا اور اکثر لوگ فقر و غربت کی زندگی گزار رہے تھے.اس دوران ایک واقعہ کے نتیجہ میں حضرت ادریس ع پہاڑ سے نیچے اترے بیس سال کی غیبت کے باوجود انکے سچے پیروکاروں نے انہیں پہچان لیا اور فقر و تنگدستی کا اظہار کیا اور زمانہ کے ظالم حکمرانوں کی شکایت کی…
حضرت ادریس ع امت میں واپس لوٹ آئے اور اپنے پیروکاروں کو ظلم سے رہائی اور فرج کا وعدہ دیا …کہ زمانہ کے ظالم ذلیل ہونگے .. اسی طرح انہوں نے وعدہ دیا کہ آئندہ انکی نسل ایک شخص قیام کرے گا جسکا نام نوح ہوگا…پھر اللہ نے ادریس ع کو اپنی طرف اٹھا لیا.
پھر ادریس کے شیعہ اور مومنین نسل در نسل نوح کے قیام کے انتظار میں رہے اور اس انتظار میں انہوں ظالموں کے ستم کے مدمقابل صبر سے کام لیا یہانتک کہ حضرت نوح علیہ السلام کی نبوت کا پرچم بلند ہوا.( کمال الدین،ج1،ص 254)
(جاری ہے…..) 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=22442