2

شہر مکہ کیسے آباد ہوا ۔۔۔

  • News cod : 34199
  • 18 می 2022 - 17:56
شہر مکہ کیسے آباد ہوا ۔۔۔
حضرت اسماعیل ؑکی وفات کے بعد ان کے فرزند " نابت " سرزمین مکہ کے رئیس مقرر ہوئے جبکہ " نابت " کی وفات کے بعد جرہیمان قبیلہ کو یہ بات ناگوار گزری کہ مکہ کی سرداری خاندانِ اسماعیل ؑ کے پاس رہے ،پس اسی بناء پر " نابت " کے بعد جرہیمان قبیلے نے حکومتی امور کو اپنے ہاتھوں لے لیا۔ اوراسی طرح پھر کئی سال گذرنے کے بعد " خزاعہ " نامی قبیلے نے (جو کہ جرہیمان کی طرح اس سرزمین پر کوئی کوچ کر کے آئے اور ساکن ہوئے ) حکومت کا دعویٰ کیا ۔

شہر مکہ کیسے آباد ہوا ۔۔۔
تحریر۔ ساجد علی گوندل
Sajidaligondal55@gmail.com
شہر مکہ کا خانہ خدا (کعبے)کے ساتھ بہت گہرا رابطہ ہے ۔جیسا کہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ” حضرت آدم ؑ نے جنت کے بعد سب سے پہلے زمین کے جس خطے پر قدم رکھا وہ مکہ کی سرزمین تھی اور انہوں نے ہی خدا کے حکم سے وہاں کعبے کی بنیاد رکھی ۔([1])
اس طرح کی روایات سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے ۔مکہ کی تاریخ ، تاریخ بشریت جتنی ہی قدیم ہے ۔(یعنی مکہ اسی دن سے معرض ِ وجود میں آگیا ،جب سے حضرت آدم ؑ نے اپنا پہلا قدم روی زمین پر رکھا )۔
اسی طرح روایات اس بات پر دلیل ہیں کہ ” حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت نوح ؑ تک مکہ وہ سر زمین ہے کہ جہاں نوع بشر کا بسیرا رکھا ہے ۔ “([2])
حضرت آدم ؑ کے بیٹے حضرت شیث کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دوبارہ شہر مکہ کی بنیاد رکھی ۔([3])
جو اس بات پر دلیل ہے کہ جب ” طوفانِ نوح ؑ نے کائنات کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ہر طرف پانی ہی پانی نظر آنے لگا ،یہاں تک کہ طوفان نے ہر خشک و تر کو تہہ و بالا کر دیا ،تب سر زمین مکہ سے بھی آثار زندگی ختم ہو گئے ،اور یہ شہر بھی پوری طرح سے پانی میں ڈوب گیا۔ “([4])
مگر جیسے ہی طوفان تھما ،بارش رکی اور زمین نے پانی کو اپنے اندر نگل لیا۔
زندگی نے ایک دفعہ پھر روی زمین پر حرکت شروع کی،
لوگوں نے پھر سے شہروں کو آباد کرنا شروع کیا اور آمد و رفت ہونے لگی تو اس وقت شہر مکہ نے ایک مشہور تجارتی استراحت کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔
کیونکہ شہر مکہ ،ایک تو یمن و شام کے راستے پر واقع تھا اس لئے مسافرین آرام کی غرض سے یہاں قیام کرتے اور دوسرا یہاں پانی کے چشمے اور مسافرین کے آرام کے لئے مناسب مسافر خانے فراہم تھے۔([5])
جس زمانے میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی بیوی ہاجرہ ؑ و فرزند حضرت اسماعیل ؑ کے ساتھ سرزمین مکہ کا رخ کیا اس وقت یہ زمین خشک سالی کا ایک نمونہ تھی کیونکہ اس سرزمین کو چاروں طرف سے پہاڑوں کی چوٹیوں نے گھیر رکھا تھا اس لئے یہاں مرطوب آب و ہوا نہ پہنچنا اور پھر خود یہاں کے بلند ٹمپریچر کے سبب اس خطے کو خشک سالی کا سامنا تھا ۔حتیٰ اس خطے کو ” وادی غیر ذی زرع “([6])کے نام سے پکارا جاتا ۔([7])
حضرت ابراہیم ؑ کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد جو پانی حضرت ہاجرہ ؑ و اسماعیل ؑ کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا ۔لہٰذا حضرت ہاجرہ ؑ پانی کی تلاش میں پہاڑوں کی طرف نکل پڑیں ، کبھی اس پہاڑ کی طرف جاتیں تو کبھی اس کی طرف ،بالآخر محنت و کوشش حضرت ہاجرہ ؑ رنگ لائی اور اللہ نے حضرت اسماعیل ؑ کے وجود کی برکت سے اس خشک و پتھریلی سرزمین میں پانی کا چشمہ جاری کردیا ،کہ جو بعد میں زمزم کے نام سے معروف ہوا۔([8])تاریخ میں ملتا ہے کہ چشمہ زمزم تقریباً دو ہزار سال قبل از میلادی عیسوی دریافت ہوا ۔([9])
(جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ طوفان نوحؑ کے بعد شہر مکہ جس میں آثارِ زندگی بالکل ختم ہو گئے تھے)جیسے ہی سرزمین مکہ پر چشمہ ِ زمزم نے آنکھ کھولی تو گویا ایک بار پھر اس سرزمین میں زندگی نے سانس لینا شروع کر دیا۔
“جُر ہُم نامی قبیلہ کہ جو اصل میں عینی قبیلہ تھا اکثر فلسطین میں تجارت کی غرض سے اس سرزمین سے گزرتا ([10])ایک دفعہ کچھ یوں ہوا کہ جیسے ہی اس قبیلے کے چند افراد کا یہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے یہاں بہت سارے پرندوں کو دیکھا کہ جو آسمان سے زمین کی طرف آتے ہیں اور پھر تھوڑی ہی دیر میں سرور و خوشی کی حالت میں آسمان کی طرف پرواز کرتے،
جیسے ان کو ایک تازہ زندگی ملی ہو ۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ایک خشک و بنجر زمین ہےلہٰذا یہ منظر دیکھ کر وہ سب حیران ہوئے کہ آخر یہاں کیا ماجرا ہے ،اسی تجسس و حیرانگی میں انہوں نے اپنے دو افراد کو بھیجا کہ ،پتہ لگائیں کہ آخر وہاں کیا ہو رہا ہے ۔وہ دونوں جب وہاں پہنچے اور سب دیکھا تو انتہائی خوشی کی حالت میں واپس پلٹے اور اپنے قبیلے والوں کو جلدی سے اس بات کی خبر دی۔
پس اس سب کے بعد اس قبیلے نے یمن سے کوچ کیا اور سرزمین مکہ پر آئے اور یہاں ہی زندگی بسر کرنے کے لیے حضرت ہاجرہ ؑ سے اجازت مانگی ۔
حضرت ہاجرہ ؑ نے بھی ان کی اس درخواست کو قبول کیا اور ان کا استقبال کیا۔
اس طرح طوفان کے بعد پہلی دفعہ شہر مکہ میں معاشرتی زندگی کا آغاز ہوا۔
حضرت اسماعیل ؑ نے اپنے بچپن و نوجوانی کا سفر جرہیمان قبیلہ میں ہی گذارا ،اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسی قبیلہ کی لڑکی سے شادی کی ۔کچھ مورخین نے اس لڑکی کا نام ’’عمارہ‘‘جوکہ’’سعید بن اسامہ‘‘کی دختر تھی ،ذکر کیا ہے ۔ جبکہ بعض کے مطابق حضرت اسماعیل کی شادی ” سیدہ ” نامی خاتون سے ہوئی جو کہ ” وضاض بن عمرو جُرہمی ” نامی شخص کی بیٹی تھی (جو کہ جرہیمان قبیلے کا سردار تھا)اور اسی سے حضرت اسماعیلؑ کے بارہ فرزند ہوئے([11])۔
حضرت ابراہیم ؑ کبھی کبھی اپنی زوجہ و فرزند حضرت اسماعیل ؑسے ملنے کی غرض سےسرزمین مکہ تشریف لاتے ۔اسی طرح کی آمد و رفت میں ایک دفعہ جب حضرت ابراہیم ؑ اس سرزمین پرتشریف لائے تو دستور خداوندی کے مطابق اپنے فرزند حضرت اسماعیل ؑ سے اس سرزمین پر خدا کے گھر (کعبے) کی تعمیرکا ذکر کیا ۔حضرت اسماعیل ؑ نے یہ سنتے ہی رضا مندی کا اظہار کیا اور پھر دونوں نے ملکر یہاں(کعبے )کی بنیاد رکھی۔([12])
پس جیسےہی خانہ خدا کی تعمیر مکمل ہوئی ،تو حضرت ابراہیم ؑ نے فرمانِ خدا کے مطابق،دنیا کے گوش و کنار سے لوگوں کو اعمال حج کی دعوت دی اور لوگوں کو فریضہ حج کی طرف متوجہ کیا ([13])جیسے ہی لوگ اس الہٰی فریضے کی طرف متوجہ ہوئے تو دنیا کے طول و عرض سے لوگ خانہ خدا (کعبہ )کی زیارت و حج کی ادائیگی کے لیے اس سرزمین پر جمع ہونے لگے ،اسی بناء پر یہ سرزمین آہستہ آہستہ پورے جزیرۃ العرب میں اور حتی اس سےباہربھی سرزمین مقدس سے کے نام سے معروف ہونے لگی ۔
کعبے کی تعمیر کے بعد اس سر زمین نے اس قدر شہرت حاصل کی کہ حضرت ابراہیم ؑ وحضرت اسماعیل ؑ کے زمانے میں ہی یہاں شہری زندگی کا آغاز ہو گیا ۔اور اس کی دلیل خود قرآن نےکچھ یوں نقل کی ہے ۔” واذ قال ابراھیم رب اجعل ہذا البلد ءَ امناً”([14]) یعنی حضرت ابراہیم ؑنے اپنی دعا میں اس سرزمین کے لئے ” شہر ” کا لفظ استعمال کیا ، بعض کتابوں میں حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیل ؑ کے وسیلے سے سرزمین مکہ کی شہری زندگی کی ابتداء ’’سال (1892ق۔م‘)‘ میں ذکر ہوئی ہے([15]) ۔
حضرت اسماعیل ؑکی وفات کے بعد ان کے فرزند ” نابت ” سرزمین مکہ کے رئیس مقرر ہوئے جبکہ ” نابت ” کی وفات کے بعد جرہیمان قبیلہ کو یہ بات ناگوار گزری کہ مکہ کی سرداری خاندانِ اسماعیل ؑ کے پاس رہے ،پس اسی بناء پر ” نابت ” کے بعد جرہیمان قبیلے نے حکومتی امور کو اپنے ہاتھوں لے لیا۔ اوراسی طرح پھر کئی سال گذرنے کے بعد ” خزاعہ ” نامی قبیلے نے (جو کہ جرہیمان کی طرح اس سرزمین پر کوئی کوچ کر کے آئے اور ساکن ہوئے ) حکومت کا دعویٰ کیا ۔اوربالآخر جرہیمان کے ساتھ ایک خونی جنگ کے بعد مکہ کی حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔ اس قبیلے نے تقریباً تین سو سے پانچ سو سال تک سرزمین مکہ پر حکومت کی اور اسی دوران کئی بار حملہ ” تبابعہ ” کا دفاع بھی کیا ’’تبابعہ ،تُبّع کی جمع ہے اوریمن کے بادشاہوں کالقب ہے ‘‘اور اس بات سے مانع ہوئے کہ سرزمین مکہ یمن کے بادشاہوں کے ہاتھوں فتح ہو۔جرہیمان میں سے’’ عمر و بن لُحَّی خزاعی‘‘ ایک دولت مند و بااثر حاکم تھا اور وہ پہلاشخص تھا کہ جو شام سے بتوں کو سرزمین مکہ پر لایا اور یہاں بت پرستی کا رواج ڈالا۔
قُصی بن کلاب (پانچویں جد پیامبرؐ) جو کہ زمانہ اسلام سے ایک سو پچاس سال پہلے ،سن (۴۰ ۔م)میں پیدا ہوئے ،سرزمین مکہ پر خزاعی قبیلے کے آخری فرمان روا کے داماد تھے۔ انہوں نے اپنے سسر کی وفات کے بعد خود حکومت سنبھالی اور پھر اپنے بعد حکومت مکہ کو قبیلہ قریش میں منتقل کر دیا۔
قُصّی نے اپنی حکومت کے دوران شہرِ مکہ کی تعمیر و ترقی کے لیے بہت سارے مؤثر اقدام کیے۔([16])
قُصّی اور مکہ کے لوگ
حضرت اسماعیل ؑ کے گزرنے کےکئی سالوں بعد بھی مکہ کے لوگ وادی مکہ ،کو حرم ِ امن ِ الہٰی شمار کرتے اور حرم کی حدود میں رہائش اختیار نہ کرتے ،وہ دن کے وقت زیارت کی نیت اور اپنے کاموں کے آغاز کے لیے حرم کی طرف آتے اور رات کے وقت اپنے گھروں کو جاتے ۔([17])وہ لوگ خیموں اور جھونپڑیوں میں سکونت اختیار کرتے جبکہ ان میں سے کچھ پہاڑوں کے درّوں میں رہتے تاکہ ہر ممکنہ دشمن کے حملے سے محفوظ رکھیں ،اور مکہ میں آنے والے سیلابوں سے بھی محفوظ رہ سکیں ۔([18])
جیسے ہی قّصی نے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو اپنے قبیلے (قریش )کو وادی مکہ کی اندرونی جانب منتقل کیا ۔([19])اور کعبہ کے بلکل قریب اپنے گھر کی بنیاد رکھی کہ جس گھر نے بعد میں” دارالندوۃ” کے نام سے شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد قبیلہ قریش کے باقی افراد نے بھی اپنے گھروں کی تعمیر ایک دائرے کی صورت میں شروع کر دی کہ جن کا مرکز خود کعبہ تھا۔قبیلہ قریش وہ پہلا قبیلہ ہے کہ جنہوں نے اپنے گھر خانہ خدا (کعبہ )کے نزدیک تر تعمیر کیے ۔
قُصَی کا گھر کعبہ سے شمال کی طرف تعمیر ہوا۔([20])
قبیلہ قریش کے وہ افراد کہ جن کے گھر وادی کعبہ کے اندرونی احاطے میں تھے انہیں ” قریش ِبواطن ” کے نام سے پکارا جانے لگا اور یہی وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے شہر کے مرکزی نقطےکو تشکیل دیا جبکہ قریش کے بعض قبائل نے مکہ کے اطراف و کنار میں سکونت اختیار کی ،یہ لوگ مسافروں کی طرح خیمیں لگا کر گزر بسر کرتے ۔([21])
شروع شروع میں مکہ کے لوگ کعبہ کے احترام کی وجہ سے اپنے گھروں کی تعمیر کعبہ کی طرح مربعی صورت میں نہ کرتے ،بلکہ اپنے گھروں کو دائرے کی طرح گول بناتے ۔پہلی بار ” حمید بن زُہیر ” نے اپنا گھر کعبہ کی طرح مربعی صورت میں تعمیر کیا ۔تو لوگوں نے اسے دیکھ کر بہت تعجب کیا حتیٰ اس طرح کے اشعار بھی اس کے بارے میں کیے گئے۔
رَبَّعَ حمید بیتاً
اِمّا حیاۃً واِمّا موتاً
شعرکا ترجمہ
کتنی عجیب بات ہے کہ حمید نے کعبہ کی شکل میں گھر بنایا لہذا اب اس کی زندگی اور موت کا کچھ پتہ نہیں۔
کعبے کے اطراف میں تعمیر کیے گئے گھروں کے دروازے نہ لگائے جاتے تاکہ حج کے دِنوں میں حاجی ان کے صحنوں میں سکونت اختیار کریں۔
گھروں میں دروازے نہ لگانے کا رواج رسول خدا ؐکے زمانے تک رہا ،یہاں تک کہ اصحاب پیامبر ؐمیں سے ” حاطِب بن اَبی بَلّتَعۃَ ” وہ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے پہلی بار اپنے گھر میں دروازہ نصب کیا ۔
خلیفہ دوم حضرت عمر کے زمانے تک ایسے گھر بہت کم تھے کہ جن میں دروازے نصب کیے گئے ہوں اور اس زمانے میں اگر کوئی چاہتا کہ اپنے گھر میں دروازہ لگائے تو اس کے لیے ضروری ہو تاکہ وہ خلیفہ سے اجازت طلب کرے :پس ” ہند بنت سہیل ” نے جب خلیفہِ وقت حضرت عمرسے دروازہ لگانے کی اجازت چاہی ۔تو حضرت عمرنے اس سے کہا کہ :آیا تو اس لیے گھر میں دروازہ لگانا چاہتی ہے کہ حاجی و اعمال عمرہ بجا لانے والے افراد تیرے گھر میں داخل نہ ہوں !
پس میں اس بنا پر تمہیں ہرگز دروازہ لگانے کی اجازت نہیں دوں گا۔
ہند نے کہا کہ :خدا کی قسم میرا یسا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ میں تو یہ چاہتی ہوں کہ میرے گھر میں حاجی وعمرہ گذاروں کی قمتی اشیاء (کہ جو وہ ساتھ لاتے ہیں)چوروں سے محفوظ رہیں ۔جب خلیفہ دوم نے یہ سنا تو اسے دروازہ لگانے کی اجات دی ۔([1])
قُصَّی نے کعبہ کے اطراف میں گھروں کی تعمیر کے مندرجہ ذیل اصول بیان کیے ۔
کوئی بھی گھر کعبہ سے بلند تعمیر نہ کیا جائے ۔
ہر دو گھروں کے درمیان ایک ایسی گلی بنائی جائے کہ جو حرم کعبہ کی طرف جاتی ہو۔
انہی گلیوں میں سے ایک مہم ترین گلی کا نام ” طریق بنی شیبہ” تھا ۔
قُصَی اور پھر ان کے بعد کے زمانے میں بھی عموماً لوگ ، دن کے وقت خانہ خدا کعبہ کے ساتھ سائے یعنی فضا ء مسجد الحرم میں جلسے کی صورت میں بیھٹتے اور جب تک یہ سایہ باقی رہتا وہیں ہوتے اور جیسے ہی سایہ اپنے اختتام کو پہنچتا تو یہ لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ۔ یہ جلسہ قبیلے کے بزرگ کی موجودگی میں برگزار ہوتا اور اس کا مرکز ” دارالندہ ” ہوتا ([2])(کیونکہ دن کے وقت کعبہ کا سایۂ دالندرہ میں پڑتا ۔)
گھروں کی تعمیر کی یہ کیفیت و مجالس کا انعقاد خود رسول خدا ؐ کے زمانے میں بھی ویسا ہی تھا ۔
________________________________________
([1]) ۔ تاریخ مکہ ص ۱۳
([2]) ۔ تاریخ مکہ ص ۱۴

________________________________________
([1]) ۔ الازراقی ، اخبار مکہ و ما جا فیھا من الآثار ، ج ۱ ص ۳۶
([2]) ۔ ایضاً
([3]) ۔ دلیل الحاج المصورو مناسک الحج علی المذھب الاربعۃ ، ص ۸۶ و الازراقی ، اخبار مکہ و ما جا فیھا من الآثار ج ۱ ص ۳۵۵
([4]) ۔ الاعلاق المنفیسہ ، ج ۷ ص ۳۰
([5]) ۔ موسوعۃ العتبات المقدسۃ ، ج ۲ ص ۵ و مکۃ و المدینۃ فی الجاھلیۃ و عھد الرسول (ص) ص ۹۵
([6]) ۔ سورہ ابراھیم آیۃ نمبر ۳۷
([7]) ۔ تاریخ مکہ ص ۱
([8]) ۔ اخبار مکہ و ما جا فیھا من الآثار ج ۱ ص ۵۵
([9]) ۔ موسوعۃ العتبات المقدسۃ ج ۲ ص ۲۱۴
([10]) ۔ ایضاً ص ۱۶
([11]) ۔ موسوعۃ العتبات المقدسۃ ص ۱۶
([12]) ۔ اخبار مکہ و ما جا فیھا من الآثار ج ۱ ص ۳۶
([13]) ۔ اخبار مکہ و ما جا فیھا من الآثار ج۱ ص۱۶
([14]) ۔ سورہ ابراھیم آیت۔ سورہ ابراھیم آیت۳۵
([15]) ۔ دلیل الحاج المصورو مناسک الحج علی المذھب الاربعۃ ص ۳۰
([16]) ۔ موسوعۃ العتبات المقدسۃ ج۲ ص ۱۶ تا ۴۰
([17]) ۔ مکۃ و المدینۃ فی الجاھلیۃ و عھد الرسول (ص) ص ۱۰۴ و المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، ج۴ ص ۷و ۸
([18]) ۔ مکۃ و المدینۃ فی الجاھلیۃ و عھد الرسول(ص) ج ۴ ص ۸
([19]) ۔ایضاً
([20]) ۔ مکہ مکرمہ ۔ مدینہ منورہ ص ۵۹
([21]) ۔ موسوعۃ العتبات المقدسۃ ج۲ ص ۷۵ و مکۃ و المدینۃ فی الجاھلیۃ و عھد الرسول(ص) ص ۱۲۲

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=34199