4

سود کھانے اور سود لینے کا کیا حکم ہے؟

  • News cod : 36367
  • 21 جولای 2022 - 5:33
سود کھانے اور سود لینے کا کیا حکم ہے؟
قسطوں پر زیادہ پیسے دے کر گاڑی کا بیمہ کرانا کیا سودی معاملہ حساب کیا جائے گا؟

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی سیستانی 
سوال: سود کھانے اور سود لینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: سود لینا جس طرح سے بھی ہو گناہ کبیرہ اور دنیا اور آخرت کے عذاب کا باعث ہے ہاں کافر سے سود لینا صرف جایز ہے اسے سود دینا جایز نہیں ہے۔
۲سوال: تیسرے درجہ کا تین کیلو چاول دے کر پہلے درجہ کا ایک کیلو چاول خریدنا کیا سودی معاملہ میں حساب ہوگا؟
جواب: ہاں سودی معاملہ ہے۔
۳سوال: قسطوں پر زیادہ پیسے دے کر گاڑی کا بیمہ کرانا کیا سودی معاملہ حساب کیا جائے گا؟
جواب: اگر قسطی طور پر بیمہ کروانے کی وجہ سے بیمہ کی قیمت میں اضافہ کر کے لے تو یہ سودی معاملہ شمار نہیں ہوگا۔
۴سوال: اگر کسی کو ہم پیسہ دیں کے وہ اس سے کام کرے اور ہر مہینے معین مقدار ہم کو دے تو کیا یہ معاملہ سودی ہوگا۔
جواب: اس سے (مضاربہ) کر سکتے ہیں اس معنی میں کے اسے ایک رقم کام کرنے کے لیے دیں اور جو فایدہ ہو اس کا کچھ فیصد مثلا ۵۰ فیصد آپ کو دے لیکن اگر نقصان ہو یا سرمایہ تلف ہو جاۓ تو آپ کے جیب سے گیا ہے مگر یہ کہ اس سے شرط کیا ہو کہ اگر نقصان ہوا تو اپنے ذاتی پیسے سے اسی مقدار میں دے(شرط میں یہی عبارت ہونی چاہیے) اور اس کو وکیل بھی بنا سکتے ہیں کہ آپ کی طرف سے ہر مہینے یا ہر سال خود سے مصالحہ کرے کہ آپ کا حصہ اس مقدار سے جو معین کی گئی ہے مثلا ایک لاکھ سے مبادلہ کرے اور شرط کریں کے آپ کا حصہ اگر ایک لاکھ سے کم ہو تو اپنے پیسے سے جبران کرے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=36367