3

اربعین واک ان شاء اللہ انقلاب امام زمانہ ؑ کیلئے زمینہ ساز ہوگا،علامہ محمد افضل حیدری کی وفاق ٹائمز سے خصوصی گفتگو

  • News cod : 37845
  • 11 سپتامبر 2022 - 8:08
اربعین واک ان شاء اللہ انقلاب امام زمانہ ؑ کیلئے زمینہ ساز ہوگا،علامہ محمد افضل حیدری کی وفاق ٹائمز سے خصوصی گفتگو
اگر ہم نے یہ جلسے یہ جلوس یہ چیزیں چھوڑ دی، تو لوگ کربلا کو بھی بھول جائیں گے جس طرح لوگ غدیر کو بھول گئے تھے

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جنرل سیکرٹری وفاق المدارس الشیعہ پاکستان حجت الاسلام والمسلمین علامہ محمد افضل حیدری نے اربعین واک کے حوالے سے وفاق ٹائمز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کربلا کا واقعہ اور سانحہ یہ جہاں آئمہ ؑ، خصوصا امام حسین ؑ کی عظمت کو بیان کرتا ہے وہاں امت کے لئے حیات بخش پیغام ہے. دنیوی زندگی تو عارضی ہے لیکن اگر یہ زندگی خدا کے دین کے کام آجائے تو یہ سب سے بڑی سعادت ہے۔

معصوم فرماتے ہیں کہ ہر نیکی کے اوپر ایک نیکی ہوتی ہے ’’حتی یقتل رجل فی سبیل اللہ ‘‘جب بندہ راہ خدا میں قتل ہوجائے تو ’’لیس فوقہ بر‘‘ تو اس سے بڑی کوئی نیکی نہیں ہے۔

واقعہ کربلا ایک دشت میں رونما ہوا، صحرا، جنگل، کوئی خاص آبادی نہیں. بنی اسد کے کچھ لوگ وہاں رہتے تھے. اس کربلا کے سانحہ کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچانے میں جناب سیدہ کا کردار بڑا واضح ہے. انہوں نے اپنی مظلومیت میں، اس گرفتاری و اسارت کے کیفیت میں جہاں موقع ملا امام حسین ؑ کی قربانی اور اس واقعہ کربلا کی اہمیت کو بیان فرمایا اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دین کی تبلیغ اور دفاع میں جتنا حصہ مردوں کا ہوتا ہے اتنا ہی حصہ خواتین کا ہوتا ہے البتہ اپنے اپنے دائرے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اس عنوان سے الگو ہیں، نمونہ ہیں ان تمام خواتین کیلئے جنہیں جب موقع ملے اللہ کے دین کی تبلیغ کے حوالے سے، دین کے دفاع کے حوالے سے، ایک بہترین نمونہ سختیوں میں، پریشان نہیں ہونا. نہایت دلیری کے ساتھ، ہمت کے ساتھ، بہت بڑے عزم سے مقصد کو آگے رکھنا، یہ سبق ہے جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے اس کردار سے جو امت محمدی کی خواتین کو ملتا ہے۔

کربلا کی زیارت اور اربعین واک کے متعلق انہوں نے کہا کہ جہاں تک کربلا کی زیارت کا تعلق ہے تو خود کربلا کی زیارت ایک بہت بڑے اجر کا باعث ہے. حضرت امام حسین ؑ کی زیارت کرنا، ہمارے ہاں آئمہ ؑ کی روایات بکثرت موجود ہیں کہ کربلا کی زیارت کو ترک نہ کرو۔ امام جعفر صادق ؑ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں سنا کرتا ہوں کہ ہمارے مؤمنین سال سال، دو دو سال کربلا نہیں جاتے؛ یعنی انہیں تعجب ہو رہا ہے۔

اتنا ثواب ہے کربلا کی زیارت کا کہ کئی کئی مقبول حجوں کا ثواب یہاں تک کہ سات سو حجوں کا ثواب نقل ہوا ہے ایک زیارت کا۔ روایت میں موجود ہے کہ کسی بھی کام کا اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے جب اس میں مشکلات زیادہ ہوں۔ تو خود پیدل زیارت پہ جانا خود اس کا الگ اجر و ثواب ہے جس کے متعلق روایات موجود ہیں اور پھر ہمارے لئے علما اور مجتہدیں کا عمل بھی موجود ہے۔مجتہدیں پیدل جاتے ہیں، جاتے تھے یہ آج کی بات نہیں ہے یہ بہت پرانی تاریخ ہے کہ علماء کرام نجف سے کربلا پیدل زیارت کیلئے تشریف لے جاتے تھے اور آج تک یہ سلسلہ موجود ہے۔ اب چونکہ سوشل میڈیا کا دور ہے تو اور بھی اس میں کشش پیدا ہوئی اور لوگ متوجہ ہوئے اور ایک انقلاب کا پیش خیمہ لگتا ہے ایک اور انقلاب کا، جس انداز سے لوگ شوق اور ولولہ کے ساتھ کربلا جا رہے ہیں اور یہ ان شاء اللہ زمینہ ساز ہوگا حضرت امام زمانہ ؑ کے انقلاب کا۔

اللہ رب العزت ہم سب کو یہ موقع عطا فرمائے کہ کربلا پیدل زیارت کے لئے جائیں اور اس سے پورے عالم میں ایک قومی وقار، تشیع کا وقار سامنے آیا ہے اور آپکی اس اربعین واک سے بڑی بڑی عالمی طاقتیں گھبرائی ہوئی نظر آتی ہیں اور اس راہ میں اٹھنے والا نعرہ ’’لبیک یا حسین ؑ‘‘ بڑی بڑی طاقتوں کو پریشان کیئے ہوا ہے۔ان شاء اللہ یہی جذبہ باقی رہا تو یہ ساری قوم حضرت امام زمانہ ؑ کی سپاہی بنے گی۔

اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ہم سارے اس اربعین واک میں شریک ہوں اور اپنے آپ کو اس طرح پیش کریں کہ امام زمانہ ؑ کے سپاہی شمار ہوں۔

اربعین کے حوالے سے میری گزارش یہی ہے کہ اس میں قربۃً الی اللہ کی نیت سے شریک ہونی چاہئے چونکہ یہ ایک عبادت ہے اور عبادت تبھی عبادت ہوتی ہے جب قربۃً الی اللہ کی نیت سے ہو اور اس عزم کے ساتھ کہ اس سے مقصد حسین ؑ اور کربلا کی پرچار ہو۔ جتنا کربلا پرچار ہوگا اس سے انقلاب سید الاولیاء بندوں کے سامنے واضح ہوگا۔ ’’حسین منّی و انا من الحسین ‘‘ کا مفہوم لوگوں کو سمجھ آئے گا۔ کربلا لوگوں تک پہنچ پائے، کربلا لوگوں کے ذہنوں سے نکل نہ پائے۔ اگر ہم نے یہ جلسے یہ جلوس یہ چیزیں چھوڑ دی، تو لوگ کربلا کو بھی بھول جائیں گے جس طرح لوگ غدیر کو بھول گئے تھے۔ اسے نہ بھلانا اور جناب سیدہ کے ساتھ اس وعدہ پر قائم رہنا ’’ اے بنت پیغمبر ؐ ہم ہرگز حسین کو نہیں بھولیں گے‘‘۔

اللہ رب العزت ہم کو نیکی کی توفیق عنایت فرمائے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=37845