حوزہ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شھیدین کانفرنس ہال مدرسہ حجتیہ،قم،ایران میں (قرآن وعترت فاونڈیشن علمی مرکز قم ،ایران ،زیر انتظام مجتمع آموزش فقہ عالی)شھیدمحسن فخری زادہ کی یادمیں عظیم الشان پروگرام کا انعقاد ہوا.
پروگرام کا آغازتلاوت قرآن مجیدکے ذریعے ہوا جسکے لئے حافظ سید حسین محمدرضوی نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں اس مجلس کونورانی بنایا انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت(واقیمواالصلوٰۃ وآالزکوٰۃ وماتقدموا لانفسکم من خیر تجدہ عنداللہ،ان اللہ بماتعلمون بصیرۃ،اورتم نمازقایم کرواورتم زکوٰۃاداکروکہ جوکچھ اپنے واسطے پہلے بھیج دوگے سب خدا کے یہاں مل جائیگا،خداتمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے) کی تلاوت کی کہ جسمیں مومنین کوخداوندعالم یہ بتانا چاہتاہے کہ کوئی بھی عمل بیکارنہیں ہوسکتابلکہ اسکی جزا خداوند عالم کے پاس محفوظ ہے۔
پروگرام کے ناظم احمد شہریار اس پروگرام کو بہت مہم اورپربرکت پروگرام سے تعبیرکیا اور کہا کہ یقینا شھید محسن فخری زادہ کی یاد دلوں کو زندہ کرتی ہے نفسوں کی طہارت کرتی ہے،محسن فخری زادہؒ مہابادی جمہوری اسلامی ایران کے ایک نیک آفسر اور امام حسینؑ یونیورسیٹی تہران میں فزکس کے پروفیسر اور انتہائی قابل جوہری سائنسدان تھے،جنہیں ۲۸نومبرسن ۲۰۲۰ عیسوی کو ایران کے شہر تہران کے داموند منطقے میں ایک دہشت گرد حملے میں شہید کردیاگیا،آپکی تاریخ پیدایش ۱۹۵۸عیسوی،کی درج کی گئی ہے،، شہیدکی یادمنانے والے تمام عشاق اہلبیت ؑنے ہرطریقے سے اس شب شعرکو کامیاب بنانے کی انتھک کوششیں کیں۔
اس پروگرام کے مقرر حجت الاسلام والمسلمین صرفی معاونت فرھنگی مجتمع آموزش فقہ عالی نے اپنی افتتاحی تقریرمیں کہا کہ فخری زادہ کے قتل کا مقصد ایران و راہ انسانیت میں رکاوٹیں پیش کرنا تھا؟مرحوم کی شخصیت پر روشنی ڈالنے کیلئے ایک طویل فرصت درکارہے مختصر طورپہ یہ کہا جاسکتاہے کہ آپ کاہم وغم راہ انسانیت کی ترقی تھی آپ ہی کی ذات نے کرونا جیسی موذی مرض کی دوابنانے میں پوری طاقت لگائی تاکہ لوگ باگ ایک ٹھنڈی سانس لے سکیں اور اس دنیامیںچین سے زندگی بسر کرسکیں؟مگر کیاخبرتھی آپ اپنی اس خاص خدمت کوبھی آخری مرحلے تک نہیں پہوچاسکیں گے اور بدترین قوم کے ذریعے شہیدکئے جائینگے۔
ثقافتی امورکے مسئول کے بعد تسلیت نامہ بشکل نظم کا سلسلہ شروع ہوا جسمیں سب سے پہلے حیدرجعفری نے بہترین کلام کے ذریعے (دشمنوں کی اک پریشانی تھے وہ۔۔۔۔علم کے قاسم سلیمانی تھے وہ۔۔۔۔جنکے جیسے ملک مین بس چند تھے۔۔۔۔فخری زادہ ایسے دانشمند تھے)اس عظیم عبادت میں شریک ہوئے۔
حیدرجعفری کے بعد قیصر عباس الہ آبادی نے بھی بہترین لحن اورخوبصورت لہجے میں اچھے اشعارپیش کئے، جب اس پروگرام کے ناظم نے بہتریں شاعر سید عامر عباس عابدی نوگانوی کو دعوت دی توآپ نے کہا کہ (وہ جسکے دلمیں حسین تیری ولا کاجذبہ شدید ہوگا۔۔۔۔۔وہی بشرتوتیرے مقاصد کی آبروپر شہید ہوگا)ہر نے اپنی توانائی کے حساب سے اس عنوان پرجدید فکر کا اظہارکیا۔
محترم زین العابدین خوئی جوعربی،فارسی،اردو یعنی تین زبانوں پرتسلط رکھتے ہیں نے کہا کہ(فاطمہ زہراس کے بچے کا ملا نام مجھے۔۔۔۔اور ولایت کی حفاظت کا ملا کام مجھے،،کام سے میرے پریشان ہے صہیونی زادہ)جب ناظم پروگرام نے بزم شعرکو ایک نئی اور جدید وادی میں لے جانا چاہا توبرجستہ شاعر ابراہیم نوری کوآوازدی (زندگی خط ولایت پہ گزارہی ہے جبھی۔ تذکرہ تیرازمیں تابہ فلک ہے فخری۔۔تجھ سے سردار سلیمانی کی آتی ہے مہک ۔۔ تیرے چہرے سے عیاں ان کی جھلک ہے فخری ) خوش نصیبی سے اس پاک بزم میں ایک نایاب وعظیم شاعربھی موجود تھے جنہوں نے نعت کو ہمیشہ اپنا وطیرہ بنایا اور کوشش کی جوضرورت ہے اسی پربھرپور قلم کو بروئے کارلایا جائے؟یعنی محترم ثاقب نقوی(اس انقلاب وولایت کے ملک پر ثاقب۔۔۔۔۔۔ابھی بھی خون شہیداں کافیض جاری ہے۔۔۔۔۔شہادتوں کا تسلسل ہیں محسن وقاسم۔۔۔۔ہر ایک شخص یہاں لشکروں پہ بھاری ہے)اس عظیم ہستی کے نام نامی کو ثاقب نقوی کے نام سے جانا جاتاہے۔
حجت الاسلام والمسلیمن سید شمع محمد رضوی جومختلف جہات سے ہمیشہ مصروف خدمت رہا کرتے ہیں انہوں نے بھی اپنا قیمتی وقت نکال کر شھید محسن فخری زادہ کی ترویح روح کے لئے رونق بخشی،آپ نے کلام میں یہ کوشش کی کہ کسی طرح مرحوم کے اوصاف کوقلمبندکیاجائے(نیک تھے صاحب ایمان تھے فخری زادہ۔۔۔۔ عاشق شاہ خراسان تھے فخری زادہ۔۔۔۔کل جوانوں کے لئے جان تھے فخری زادہ۔۔۔۔یوں کہوں شیرنیستان تھے فخری زادہ۔۔۔مجلس ونوحہ وماتم میں اگرحصہ لیا۔۔۔روزوشب پڑھتے بھی قرآن تھے فخری زادہ۔۔۔چودہویں رات سا چہرہ بھی چمکتادیکھا۔۔۔۔قاری سورہ عمران تھے فخری زادہ۔۔اپنے رہبرسے لیا تحفہ گراں خدمت خلق۔۔۔۔اسلئے جان سے قربان تھے فخری زادہ۔۔۔۔علم ودانش کے وظیفے پہ قیامت کا عمل۔۔۔۔آجکے جابرحیان تھے فخری زادہ۔۔۔۔بعد مرنے کے سلامی کے لئے آپہوچے۔۔بی بی معصومہ س کے مہمان تھے فخری زاد) اسی سبب شاندارکلام سے مومنین کے قلوب کو منورکیا۔۔۔۔ایک اوربزرگ شاعر اہلبیتؑ جنہیں جناب ضیغم بارہ بنکوی کے نام سے جانا جاتاہے انہوں نے بھی اپنے جذبات کا خوب اظہارکیا(فخرپھر کیوں نہ کرے وقت کا رہبر اس پر۔۔۔۔۔نازش ملت ایران تھے فخری زادہ )
رپورٹ کے مطابق احمدحسین شھریار جو پروگرام کے ناظم بھی تھے اور ساتھ ساتھ آپ فرزندعلامہ اقبال کے نام سے پہچانے بھی جاتے ہیں خوبصورتی سے مذکورہ عنوان پر کلام پیش کئے آپکی خوبی یہ ہے کہ آپکا کلام جس مقدارمیں اردوزبان میں حسین ہواکرتاہے اسی طرح فارسی میں بھی یعنی بیک وقت ۲ملکی عوام بیک وقت ایک ہی شاعر کے خون جگرکلام سے جس سےمعرفت کاسرچشمہ پھوٹتارہتاہے سیراب ہواکرتے ہیں یادشہیدکے اس مبارک پروگرام کے صدر حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید احتشام عباس حشم جونپوری نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں انقلابی اشعارپیش کئے جنکا سامعین کرام نے پرجوش اندازمیں استقبال کیا (شوکت عالم اسلام تھے فخری زادہ۔۔۔کتنے خوش زی وخوش انجام تھے فخری زادہ۔۔ظلم اور کفرکی آنکھوں کیلئے خار رہے۔۔دست حق کیلئے صمصام تھے فخری زادہ) محترم احمدحسین شھریار نے اس پروگرام کی اپنی آخری نظامت میں کچھ فارسی کے کلام بھی پیش کئے اورپھر اس اعلان کے ساتھ کہ انشاع اللہ ۳جنوری کو شھید سردار سلیمانیؒ اور ابوالمہدی و۔۔ کی برسی کے سلسلے سے پروگرام اسی جگہ پر منعقد ہوگا۔












