یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
ہم لوگ حتی اپنی اولاد کی تربیت اور اصلاح میں جتنی کوشش کرتے ہیں اتناہی کم کامیاب ہوتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم آئینہ کی طرح صاف نہیں ہیں ۔
آپ کی شہادت ہشام کے حکم سے ابراہیم بن ولیدوالی مدینہ کی زہرخورانی کے ذریعہ واقع ہوئی ہے ایک روایت میں ہے کہ خلیفہ وقت ہشام بن عبدالملک کی مرسلہ زہرآلودزین کے ذریعہ سے واقع ہوئی تھی (جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۸) ۔
صحیفہ سجادیہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ انسان سازی اور تہذیب نفس کے لئے ایک مکتب ہے جس کا عنوان دعا ہے مگر امام سجاد ؑ نے دعا کی صورت میں معارف الہی ، توحید ، معاد ، نبوت ، امامت کو بیان کیا ہے ۔
امام صادق (ع)سے منقول ہے رجب میری امت کے لیے استغفار کامہینہ ہے۔۔ پس اس مہینے میں مغفرت طلب کریں خدا مہربان اور مغفرت کرنے والا ہے اور رجب کو اصبّ کہا گیا ہے کیوں کہ اس مہینے میں اللہ کی طرف سے رحمتیں بکثرت نازل ہوتی ہیں۔ پس بہت زیادہ استغفراللہ و اسئلہ التوبہ پڑھا کرو
مادہ پرست تہذیب علامہ اقبال کو ایک لمحے کے لئے بھی دھوکہ نہ دے پائی، اور آپ نے ان آدم کُشوں کے بارے مستقبل کے حوالے سے حیرت انگیز پیشن گوئیاں کیں
مرحوم میرزا محلاتی نے اپنی زندگی کی آخری تیس سال میں کبھی بھی زیارت عاشورا پڑھنے کو ترک نہیں کیا۔ اگر کبھی بیماری یا کسی اور وجہ سے زیارت عاشورا پڑھنا ممکن نہ ہوتا تو کسی کو ان اپنی نیابت میں پڑھنے کا توصیہ کرتے تھے۔
امام باقر علیہ السلام نے تقریباً چار سال کی عمر میں کربلا کا خونین واقعہ دیکھا۔ آپ اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے پاس موجود تھے۔
آج 11فروری کو ملت ایران 2500سالہ شہنشائیت کے خاتمے اور انقلاب اسلامی کی بیالیسویں سالگرے کاجشن منا رہی ہیں۔ جونہی امام خمینیٖؒ کی قیامت میں ملت ایران نے ملوکیت سے نجات حاصل کر لی اور امریکہ اور اس کے حواریوں کو وہاں سے مار بھگایا تو اس وقت سے تمام مغربی طاقتیں اس انقلاب کو ختم کرنے کے لیے ہر فورم پر ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں لیکن الحمد للہ آج تک یہ انقلاب اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ باقی ہے اور استعماری طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔
جہالت: ایک اور چیز جو ہمیشہ حقیقت کے لیے خطرہ بنی رہتی ہے وہ دوستوں کی جہالت اور نادانی ہے جو خطرے کا سبب بنتی ہے ، آج کل واضح طورپر جاھل اور نادان دوستوں کی طرف سے خطرہ محسوس کیا جاتا ہے ، جو انتظار کے نام سے مھدویت کی فکرکو نقصان پہنچادیتے ہیں۔ ایسے نادان لوگ جو انتظار کے نام سے ظلم و ستم کے مقابلے میں خاموش اور تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔