یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
نبی کی معنوی وراثت سے مراد، وہ حکمت و دانائی، علم و معرفت، اور انسان کو درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے تربیت کے وہ سنہری اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر کوئی بھی انسان منزل کمال تک پہنچ کر زندگی کے اصل ہدف کو پا سکتا ہے
اس کے بعد امام جواد نے یحیی بن اکثم سے سوال کیا:اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جس نے صبح کو ایک عورت کی طرف نظر کی تو وہ اس پر حرام تھی ، دن چڑھے حلال ہوگئی ، پھرظہر کے وقت حرام ہوگئی، عصر کے وقت پھر حلال ہوگئی ، غروب آفتاب پر پھر حرام ہوگئی ، عشاء کے وقت پھر حلال ہوگئی ، آدھی رات کو حرام ہوگئی ، صبح کے وقت پھر حلال ہوگئی ، بتاو ایک ہی دن میں اتنی دفعہ وہ عورت اس شخص پر کس طرح حرام و حلال ہوتی رہی ۔
امیر المومنین علیہ السلام اس کلام میں دو نکات کو بیان فرماتے ہیں ایک صدقہ کی تاثیر اور دوسرا قیامت کے دن انسان کے دنیوی اعمال کا حضور کہ جسے ’’تجسم اعمال‘‘ یعنی خود اعمال کا مجسم ہو کر حاضر ہونا۔
امام خمینیؒ کی شکل میں (کہ جو فرزند رسول خدا ؐ و پیرو حیدر کرار ؑ تھا )مسلمانوں کو ایک ایسا رہبر عطا کیا جو اپنے علم و عمل ، صفات و اخلاق، شجاعت و شہامت میں رسول خدا ؐ و آئمہ معصومین ؑ کے کردار کی عکاسی کرتا تھا
تعلیم و تربیت میں ہدف کا مطلب وہ آخری اور مطلوبہ صورتحال ہے، جس کا شعوری طور پر انتخاب کیا جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے مناسب تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں انجام جاتی ہیں
پہلوی دور حکومت بہت سے پہلوؤں سے ایران کی معاصر تاریخ کا ایک متضاد دور ہے اور ارضی سالمیت کے مسئلے میں یہ تضاد کچھ زیادہ ہی نمایاں ہے۔ پہلوی حکومت بظاہر اور اپنے دعوے کے مطابق اچھی خاصی فوجی طاقت کی حامل ہے لیکن اس کے دور میں اغیار کی جانب سے ایران کی ارضی سالمیت کی لگاتار اور بڑی شدت سے خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
نام کے تو ہم بھی زندہ ہیں لیکن شاعر مشرق علامہ اقبال نے زندگی کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے محمدعلی سدپارہ جیسے لوگ ہی حقیقی معنوں میں زندہ ہوتے ہیں۔ ظاہری شکل و صورت میں وہ بھی ہماری طرح کے انسان ہی تھے مگر جس چیز نے اسے علی سدپارہ بنادیا وہ ان کا پختہ ارادہ ، عزم و ہمت، پہاڑوں کی طرح بلند حوصلہ اور اپنے مقصد پر محکم یقین وغیرہ تھا۔
اسلام نے اسے شرافت وآبروعطاکی ہے۔‘‘عورت جو انسانی معاشرے میں کہیں ماں کہیں بہن تو کہیں بیوی کادرجہ رکھتی ہے۔ اسے ان رشتوں کے بندھن میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتاہے
ڈاکٹر جلال الدین رحمت وہ شخصیت ہیں جو اپنے عزیز و اقارب میں سے کسی کا انحراف دیکھتے تھے یا کسی کا رویہ ہمارے اسلامی نظام کی پالیسی کے مطابق نہیں ہے اور اسے انتباہ کیا جاتا ہے ، تو فورا قبول کرتے تھے اور اظہار کرتے تھے ۔ میں سیدنا القائد (امام خامنہ ای ، ) کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔