زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























زائرینِ حسینی، طاقت اور استحکام، خون کا بدلہ دشمنوں سے، خوفناک انجام ثابت، کتائب سید الشہداء،
ممبئی کے تمام مکتبہ فکر کے علماء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وسیم رضوی کو سزا دلانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
مظلوم کی صدا کی حمایت اور ظالم سے اظہار نفرت کرنا ہر مذھب کی اولین ترجیع ھونی چاہے
حجت الاسلام مروی نے کہا کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی تأسیس کے حوالے سے آستان قدس رضوی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے،اس مقدس آستانہ کی بنیا دی ذمہ داری یونیورسٹیاں یا اسکول قائم کرنا نہيں ہے بلکہ اس کی ذمہ داری زائر اور زیارت کے امور پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اہلبیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ ہے
حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ شعبان المعظم کا چاند نظر آ گیا ہے لہٰذا بروز اتوار15 مارچ 2021ء کو عراق میں شعبان المعظم 1442 ہجری کی پہلی تاریخ ہوگی۔
قرآن مقدس کی توہین پر سکریٹری تنظیم المکاتب لکھنؤ حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید صفی حیدر زیدی نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ الٰہی کتاب قرآن کریم کی مخالفت، عالمی استعمار کی انسانیت دشمن اور اسلام مخالف سازشوں کا نتیجہ ہے۔
وسیم رضوی کے شیطانی و دہشت گردانہ اقدام کے خلاف آج 14 مارچ بروز اتوار عزاداری روڈ آصفی امام باڑے پر احتجاجی ریلی بعنوان ’’تحفظ قرآن مجید ریلی‘‘ منعقد ہوئی جس میں مکتب تشیع اور اہل سنت والجماعت کےاہم اور بزرگ علماء نے شریک ہوکر وسیم رضوی کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل عرضی کی مذمت کی اور اسے اسلام مخالف اور دشمن قرآن قراردیتے ہوئے اس کے سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا ۔واضح رہے کہ وسیم رضوی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے کہ قرآن کریم سے 26 آیتوں کو ہٹایا جائے ،جس پر مسلمانوں کے ہر طبقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتاہے اور حکومت سے اسکی گرفتاری کا مطالبہ کیاجارہاہے ۔
حضرت ولی امر مسلمین اور دیگر مراجع کرام سے درخواست کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں اپنی راۓ کا اظہار فرمائیں تاکہ دین مزید مستحکم ہو اور دین اور اسکے مقدسات کا دفاع ہو۔
جس کسان کے وجود کو زرعی قوانین کی بیماریوں سے خطرہ ہو وہ سڑک پر ہی آئے گا اور اپنے وجود کا بلند فریاد کرے گا
اب تک 1 کروڑ 60 لاکھ یمنی شہری قحط کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے 50 لاکھ کی حالت ناگفتہ بہ ہے