سندوس سکردو کا عظیم جذبۂ ایثار؛ 1 کروڑ 53 لاکھ روپے کا چک ملتِ ایران کے نام دے دیا
























عراقی شیعہ جماعتیں ابھی تک وزارت عظمی کے لیے کسی امیدوار پر منتفق نہیں ہوسکیں، عراق میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی بدھ تک ملتوی کردی گئی ہے،
آسام اسمبلی نے ایک تجویز منظورکی ہے جسکے نتیجہ میں پہلی اپریل سے تمام مدارس بند کردیئے جائیں گے ۔اسمبلی کی یہ تجویزاورمدارس بند کرنے کافیصلہ غلط ہے،اورآئین میں موجود بنیاد ی حقوق کی دفعہ ۳۰؍کی کھلی مخالفت ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ میں وارانسی کے گیان واپی مسجد - وشویشور ناتھ مندر تنازعہ کی سماعت بدھ کے روز سے شروع ہو گئی ہے۔ جسٹس پرکاش پیڈیا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وارانسی کے حکم کو چیلنج کرنے کے لئے انجمن انتظامیہ مسجد وارانسی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تکفیری دہشت گردی ، اپنی دم توڑنے کے بعد ، عراق کو دوبارہ غیر مستحکم کرنے اور اس ملک میں غیر ملکیوں کی موجودگی کو جواز بنانے کے لئے ایک بار پھر نشانہ بن رہی ہے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے میں ہونے والے دو دھماکوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔
موصولہ خبروں کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں یہ دھماکے الطیران چوک اور باب الشرقی کے علاقے میں ہوئے جن میں کم سے کم اٹھائیس افراد شہید اور تہتر زخمی ہو گئے۔
ہادی قبیسی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ عراق اور شام میں امریکہ کا کردار تخریبی ہے، کہا کہ امریکہ، جنوبی شام میں تخریبی کاروائیوں کے لئے شام کی جیلوں میں بند داعش کے عناصر کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔
ایران کی قدس فورس کے شہید کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی صاحبزادی زینب سلیمانی نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کو شہید کر کے ٹرمپ ہیرو تو کیا بنتے، دنیا بھر میں منفور ہو گئے اور اب وہ خوف کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹوئیٹ میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں سابق امریکی صدر ٹرمپ اور سابق وزیر خارجہ پومپئو کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھاکہ ٹرمپ ، پومپئو اور ان کے دیگر رفقاء اب تاریخ کے سیاہ باب کا حصہ بن گئے تاہم شہید جنرل قاسم سلیمانی کا نام بدستور درخشاں رہے گا۔
ایرانی گارڈین کونسل کے جنرل سکریٹری آیت اللہ احمد جنتی نے آج اس کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں نئے صدر کی تقریب حلف برداری کی تقریب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سیاسی تجزیہ نگاروں اور دنیا کے لکھاریوں کو امریکہ میں رونما ہونے والے ان پرتشدد واقعات کے متعلق تجزیہ و تحلیل کرنا چاہیے تاکہ یہ واقعات ان افراد کے لیے درس عبرت ہوں جو سیاسی خلفشار کے شکار اس ملک سے اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔