صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایران وزیر خارجہ، ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی، خلیج فارس کی تاریخ بیرونی جارح قوتوں کے عبرتناک انجام کی متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،
شہید اوسطی کی اہلیہ اور مرکز خدمات حوزہ علمیہ قم کے سابق سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن ربانی کی خوشدامن کی رحلت پر سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ اعرافی نے تعزیتی پیغام ارسال کیا ہے۔
بریفنگ کے دوران عسکری حکام نے سیاسی قیادت کوبتایا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات ہیں تاہم پاکستان، چین، روس، ایران چاہتے ہیں افغانستان میں خانہ جنگی یا جغرافیائی تقسیم نہ ہو، طالبان سے ہماری کوئی لڑائی نہیں اور نہ ہی ان پر ہمارا کوئی دباؤ ہے جب کہ سی پیک میں ہم چین کے ساتھ ہیں، اس لئے امریکی ناراض ہیں۔
عمران خان نے سوال اٹھایا کہ ہم تعلقات میں جانبداری کامظاہرہ کیوں کریں ، ہم سب سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لہذا کچھ بھی ہوجائے اور چاہے جتنا بھی دباؤ ہو پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے، دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات بہت اچھے ہیں اور سیاسی تعلقات بہت مضبوط ہیں، ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان چین ہمیشہ ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے حکم میں عوام کے ساتھ عدلیہ کے قریبی ارتباط اور کرپشن کے خلاف ٹھوس اقدامات پر بھی تاکید کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا اور مغربی طاقتوں کا پاکستان کو جانب دارہونے پر مجبور کرنا درست نہیں، کسی دباؤ کی صورت میں چین سے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔
اپنے ایک بیان میں خطیب مسجد باب العلم نے کہا کہ مسلمان باہمی اتحاد کیلئے کام کریں، کیونکہ اس وقت ہمارا دشمن ہمارے مقابلے میں متحد ہے اور اگر ہم اب بھی یکجا نہ ہوئے تو مزید نقصان ہوگا۔
علامہ سید محمد دہلوی (1391-1317 ھ) کا شمار پاکستان کے علماء ،خطباء اور مصنفین میں ہوتا ہے۔ برصغیر میں آپ خطیب اعظم سے جانے جاتے ہیں۔ سنہ 1950ء کو پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ طلبہ ہاسٹل، یتیم خانے اور لائبریریاں آپ کی سماجی خدمات میں شمار ہوتی ہیں۔ جنوری سنہ 1964ء کو پاکستان میں پہلا شیعہ اجتماعی پلیٹ فارم شیعہ مطالبات کمیٹی اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان اور آپ سربراہ منتخب ہوئے۔ شیعہ مطالبات کو حل کرانے میں کلیدی کردار رہا۔ کئی تالیفات کی ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک دستیاب ہے۔
دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، تمام الہامی مذاہب کی تعلیمات سے امن و آشتی، رواداری اور بھائی چارے کا درس ملتا ہے۔ آئین پاکستان کی روشنی میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ معاشرے میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی شوری کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی موجودہ نازک ترین صورتحال سے ہمسایہ ممالک کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وہاں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔جس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گا۔وہاں کے داخلی حالات پر قابو پانا افغانستان کی کمزور مرکزی حکومت کے بس میں نہیں رہے گا۔