یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























سکردو میں نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ و الجماعت نے کہا کہ اگر عام معافی کا اعلان کیا جاتا ہے تو بلتستان میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور عوام و مسلح افواج کے درمیان موجود خلیج ختم ہو جائے گی اور بلتستان گلستان بن جائیگا۔
ہندوستان کے معروف اہلسنت عالم دین مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے کہا کہ تمام محدثین اہلسنت کے نزدیک حدیث غدیر متواتر ہے ۔اس حدیث کو ان لوگوں نے ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں قرآن اور حدیث پر یقین نہیں ہے ۔صرف اور صرف ناصبی اس حدیث کے تواتر کو تسلیم نہیں کرتے ۔یہ لوگ امت کے بڑے محقق علماء اور عظیم محدثین کے بھی مخالف ہیں اس لیے ان کی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں، اراکین یورپی پارلیمنٹ کا صدر اور نائب صدر یورپی کمشن کو خط عالمی برادری کی جانب سے بھارت کی مذمت و ملامت کرنے کا ایک اور کھلا ثبوت ہے۔
پاکستان کے ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر مجلسِ عزاء سے کسی کا نقصان نہیں ہو رہا تو روکنے کا کوئی جواز نہیں
جشن میں شامل افراد نے اسی طرح معاشرے میں عید غدیر کے کلچر کو پھیلانے پر زور دیا
حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا قم میں عید سعید غدیر کی مناسبت سے محفل جشن و سرور منعقد ہوئی ۔
انقلاب یمن کے سیکریٹری جنرل عبدالملک الحوثی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ و اسرائیل کی سرکردگی میں سامراجی طاقتیں امت مسلمہ پر تسلط جمانے کی کوشش کر رہی ہیں، کہا ہے کہ ان کے نفوذ کا طریقہ بحران و بدامنی پھیلانا اور مسائل و مشکلات پیدا کرنا نیز ثقافتی مسائل کھڑے کرنا ہے۔ا
نائیجریا کے عدالت عظمیٰ نے نائجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور انکی اہلیہ زینب کو 6 سال کی سخت ترین اسیری کے بعد آج تمام مقدمات باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان خطے کے امن میں شراکت دار ہے، ہم مزید کسی محاذ آرائی کاحصہ نہیں بننا چاہتے۔ امریکا کو اڈے دینے سے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے گا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ان دنوں وطن عزیز میں متنازعہ مسائل کو بلا جواز قانونی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یکساں قومی نصاب ِتعلیم تمام مکاتب فکر کے لیے قابلِ قبول ہونا چاہیےاور کسی بھی متنازعہ اور غیرمتفق علیہ مواد کو اس میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔