صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایران وزیر خارجہ، ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی، خلیج فارس کی تاریخ بیرونی جارح قوتوں کے عبرتناک انجام کی متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،
موصولہ اطلاع کے مطابق حجت الاسلام مولانا منظور احمد ملک(نولری) کو شب عاشورا نماز مغربین کے بعد بھارتی پولیس نے گھر سے اٹھا لیا ہے
پنجاب کے ڈسٹرکٹ بہاولنگر میں یوم عاشورہ حملہ جلوس پر دو کریکر حملے ہوئے ہیں،حملے 4 افراد شہید 20 کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے. پولیس نے موقع پر ایک مشکوک شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے.
علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسین ع کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں
خدا نے ہمیں مکتب حسینی کے نام سے ایک معلم اخلاق عطا کیا ہے۔آپ(ع) نے جب مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو اسی وقت سمجھا دیا کہ میرا قیام شہادت کے لئے ہے۔میری شہادت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے ہے ، میری شہادت اس لئے ہے کیونکہ دین اسلام خطرے میں پڑ گیا ہے اور میں تیار ہو گیا ہوں تاکہ دین اسلام کو نجات دوں لہذا اس سلسلے میں دین اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کردوں گا اور فرماتے تھے کہ«أَلَا تَرَوْنَ أَنَ الْحَقَ لَا یُعْمَلُ بِهِ وَأَنَّ الْبَاطِلَ لَا یُتَنَاهَی عَنْهُ لِیَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِی لِقَاءِ اللَّهِ مُحِقّا» [2]
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ پہلا قدم ہے، اس میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا، لوگ کہیں گے کہ ہمارا تعلیمی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی بڑا قدم اٹھایا جاتا ہے تو کشتیاں جلانی پڑتی ہیں، ہم تمام مشکلات کے باوجود اس ملک کو ایک قوم بنائیں گے۔
ماہ محرم الحرام کے پہلے جمعہ کو برپا ہونے والی یہ عزاداری اپنی اسی خصوصیت کی بنا پن عالمی میڈیا اور مختلف عالمی اداروں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس سال دنیا بھر میں ۵۵ ممالک میں تقریبا سات ہزار تین سو سے زیادہ مقامات پر برپا ہو رہی ہے، اور ہر سال اس میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔
عاشورائی پیغام اور خصوصا اہداف نھضت حسینی کی تبلیغ میں خطباء منبر حسینی کے کردار پر بیان فرمایا کہ خطیب کی فکری قابلیت اور اسلوب کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے اور اسی کے ذریعہ خطیب سامعین پر اثر انداز ہوتا ہے اور سامعین کے خدا اور اہلبیت علیھم السلام سے رابطے اور تمسک کو واقعہ کربلاء اور خطبات امام حسین علیہ السلام کے ذریعہ مزید مضبوط کرتا ہے ،
علامہ محمد حسین اکبر نے اس حوالے سے کی جانی والی اپنی کاوشوں کو بیان فرمایا۔اور تشیع کا صحیح موقف بیان کرنے کے حوالے سے اپنے کیے گئے اقدامات کو بھی بیان فرمایا،
اپنے بیان میں پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا ہو چکی ہے، اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کی بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔