صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایرانی صدر مسعود پزشکیان ، روزہ جنگ کی مناسبت سے ایرانی قوم کے نام پیغام، نوجوانوں کی غیر معمولی صلاحیتیں اور روشن مستقبل، عوام کے صبر و استقامت ،
انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدانوں کو ہمیشہ اداروں پر تنقید کرنے سے روکا ہے۔ ملک کی خاطر شہباز شریف اور عمران خان سے بات کرنے کو تیار ہوں۔ کوشش ہوگی کہ دونوں میں نفرتیں کم ہوں اور جلد انتخابات کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے۔ عارف علوی کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کا تنازع ملک کے لیے خطرناک ہے۔
صدر عارف علوی نے لکھا کہ جب سے آپ پاکستانی عوام نے مجھے یہ عہدہ امانتاً دیا ہے، میں نے سینکڑوں شہدا کے خاندانوں سے رابطے کیے ہیں، جنازوں میں شرکت کی ہے اور تعزیت کے لیے ان سے ملاقات کی ہے، آپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میں یہ کام اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خاندانوں کو اپنے شہدا پر ہمیشہ فخر ہوتا ہے لیکن ہم سب اس دنیا میں غمگین اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ غاصب اسرائیلی طیاروں کی غزہ پر وحشیانہ بمباری سے فلسطینی کمانڈر اور 5 سال کی بچی سمیت 10 فلسطینی شہید اور 75 زخمی ہو گئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو خراب موسم کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر کا ملبہ لسبیلہ کے علاقے وندر میں موسیٰ گوٹھ سے ملا۔ واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 6 افسران اور سپاہی شہید ہوگئے جن میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بھی شامل ہیں۔
حمزہ شہباز نے فل کورٹ بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرتے ہوئے آرٹیکل 63 اے کی نظر ثانی کی درخواستیں بھی ساتھ سماعت کرنے کی استدعا کردی۔
اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدوں، سیکیورٹی امور، سرحدی تجارت اور دیگر مختلف مشترکہ امور بھی زیر غور آئے
عددی لحاظ سے تحریک انصاف کی بظاہر برتری نظر آرہی ہے مگر مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم جماعتیں بھی حمزہ شہباز کی فتح کے لیے پُرامید ہیں۔
ملاقات میں يکساں قومى نصاب، قومى معاملات، ايف آئى آرز، فورتھ شيڈول، عزاداری کے مسائل، مجالس عزاء، جلوسوں، نظربندیوں، ضلع بندىوں، امن کميٹى بورڈ، متحدہ علماء بورڈ، قرآن بورڈ اور بى بى پاک دامن سلام اللہ عليہا کى دربار کو کھولنے اور وسيع کرنے کے حوالے سے گفتگو و مشاورت کى گئی۔
لیہ میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم کسی کی غلامی نہیں کرنا چاہتے لیکن اپنی آزادی کیلیے آزاد خارجہ پالیسی کے تحت پوری دنیا سے دوستی چاہتے ہیں۔