صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
جامعہ روحانیت بلتستان کے زیر اہتمام بلتستان کے مجامع کے تعاون سے شہید مطہری کے افکار سے آگاہی کیلئے شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا ہے، ان کلاسوں سے آشنائی کی تعارفی نشست آج بروز جمعرات حسینیہ بلتستانیہ قم المقدسہ میں منقعد ہوئی۔
اسلامی جمہوریہ جب قائم ہوتی ہے تو اپنے ساتھ جمہوریت بھی لاتی ہے، آزادی بھی لاتی ہے اور دین کو بھی ساتھ رکھتی ہے اور دنیا پر تسلط قائم کرنے کے لبرل ڈیموکریسی کے عمائدین کے عزائم کو ناکام بنا دیتی ہے۔
اس نمایش کے علوی اسٹال میں مختلف قرآنی نسخے اور تاریخی آثار کے علاوہ دیگر فن پارے بھی رکھے گیے ہیں۔
امت واحدہ پاکستان کا وفد مشہد المقدس پہنچ گیا۔ حرمِ امام علی رضاؑ کے اردو شعبہ کی جانب پرتپاک استقبال کیا گیا ۔شعبہ اردو کے زیراہتمام رواقِ غدیر میں خصوصی نشست کااہتمام کیا گیا۔
بعض منابع کی رپورٹ کے مطابق تل المسیح کے علاقے میں شام کا راڈار مرکز بھی صیہونی میزائل حملوں کا نشانہ بنا ہے۔
افتتاحی تقریب کے آغاز میں پہلے ایران کا قومی ترانہ پیش کیا گیا اور اس کے بعد 38ویں قرآنی مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی قاری قرآن کی خوبصورت تلاوت سے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دین کی مختصر عرصہ میں تبلیغ کی اور اسے عروج پر پہنچا دیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس معاشرے میں قدم رکھا تو وہاں بت پرستی جاہلیت اور گمراہی تھی لیکن رسول نے بت پرستی سے توحید اور جاہلیت سے علم اور گمراہی سے ہدایت کی طرف لے آئے۔
مدرسہ امام المنتظر قم میں استاد محترم غضنفر فائزی نے درس اخلاق دیتے ہو کہا کہ جتنی بھی عبادات ہیں سب عمل صالح شمار ہوتے ہیں لیکن ہر ایک کا مقام و محل ہے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو انجام دینا درست نہیں ہے یعنی نماز پڑھ لی تو روزہ نہیں رکھا تو کافی نہیں ہے بلکہ آیت مذکورہ میں ”الصالحات“ کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ جس پر الف لام عموم کا فائدہ دے رہی ہے۔۔
ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بعثت اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانیت کو عطا کیا گیا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ خدا کے تحفے کہ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا» لیکن کوئی نعمت، کوئی تحفہ نبی اکرم ﴿ص﴾ کی بعثت جتنا عظمت والا اور گراں بہا نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بعثت میں بنی نوع انسان کے لیے بیش بہا خزانے ہے۔ یہ خزانے لازوال ہیں۔