صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایران وزیر خارجہ، ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی، خلیج فارس کی تاریخ بیرونی جارح قوتوں کے عبرتناک انجام کی متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،
شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اور کشمیری عوام کی مسلسل حمایت پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے یورپ میں طلباء کی اسلامی انجمنوں کی یونین کی نشست کے نام اپنے پیغام میں دھڑے بندیوں کی شناخت، صحیح موقف اختیار کرنے اور حق کے محاذ کے حق میں کردار ادا کرنے کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
شیعہ قومی کانفرنس کا تعلق وطن کی سالمیت کے لیے ہے۔ قائد اعظم کے بیانیہ سے انحراف کرنے والوں کے خلاف یہ قومی کانفرنس ہے۔ جو کھیل وطن عزیز کو دو لخت کرنے کے لیے ماضی میں کھیلا گیا تھا، آج وہی کھیل پھر کھیلا جا رہا ہے۔ ملک کو عدم استحکام، معاشی مشکلات اور اقتصادی بدحالی کا سامنا ہے۔
حوزہ ہائے علمیہ ایران کے سربراہ آیۃ اللہ علی رضا اعرافی نے اپنے ایک پیغام میں آیۃ اللہ جوادی آملی کو ان کے بھائی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی ہے۔
شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے جامعہ شہید عارف الحسینی میں منعقدہ عظیم الشان پروگرام (مجلس تعظیم و تکریم برائے شہدائے قصہ خوانی مسجد امامیہ) میں شرکت اور خطاب کیا۔
سید حسن نصراللہ نے کہاکہ امریکا نے اپنے سنگين اور مجرمانہ جرائم کو فراموش کردیا ہے، امریکیوں نے افغانتسان میں شادی کی تقریب کو عزا میں بدل دیا، داعش دہشت گردوں نے پشاور میں امریکا کی خوشنودی کے لئے بے گناہ نمازیوں کو بہیمانہ طور پر شہید کیا، امریکی فوجیوں کے سنگين اور بہیمانہ جرائم سے تاریخ بھری پڑی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں پشاور میں کئے گئے شیعہ مسجد پر حملے اور نمازیوں کے قتل عام کی سخت مذمت کی ہے۔
جامع مسجد کوچہ رسالدار پشاور میں بے گناہ محب وطن نمازیوں کو جس بیدردی کے ساتھ خون میں نہلایا گیا وہ فرقہ واریت پر مبنی اسی سوچ اور پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے جسے وطن عزیز میں ایک طویل عرصے سے پھلنے پھولنے اور امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ مکتب تشیع کی جانب سے بارہا نشاندہی کئے۔
گورنر ہاوس میں کانفرنس سے خطاب میں منہاج الحسینؑ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عراق میں جب داعش نے شیعہ، سنی اور مسیحی خواتین کو کنیزیں بنا کر بازار میں فروخت کیلئے پیش کیا تو آیت اللہ سیستانی نے اپنے مقلدین کو حکم دیا کہ وہ بلاتفریق مذہب و ملت دین و عقیدہ تمام قیدی عورتوں کو پیسے دے کر خریدا جائے اور ان کو عزت و تکریم کیساتھ ان کے گھروں میں پہنچایا جائے، اور اس حکم پر عمل کیا گیا، یہی وہ سیرت النبی(ص) کا عملی مظاہرہ تھا۔