زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
ایرانی معروف عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین فرحزاد نے کہاکہ اربعین امام حسین علیہ السلام کے ایام میں ہمسایہ ممالک کے بہت سے زائرین ایران سے کربلا کی زیارت کے لیے آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان زائرین کی بہتر سے بہتر عزت و تکریم کی جائے۔
ایک انٹرویو میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ہمیں جنگ میں شہید جنرل قاسم سلیمانی جیسے تھنک ٹینک کی ضرورت تھی اور شہید جنرل قاسم سلیمانی ہمارے فیصلوں میں شامل رہتے اور نئی تجاویز دینے والوں کی قدردانی کرتے اور انکی تجاویز پر عمل کرتے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ اسد اقبال زیدی نے کہا ہے کہ آج گیارہ محرم کو سندھ کے ضلع خیرپور میں تکفیریوں کی جانب سے زبردستی کی ریلی انتظامیہ کی سرپرستی میں نکالی گئی، بعض مقامات پر سبیل امام حسینؑ کو نقصان پہنچایا گیا۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ عارف واحدی نے کہا کہ اسرائیل کیجانب سے مظلوم فلسطینیوں پر حملوں اور بھارت کیجانب مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور سرینگر میں ایام محرم میں جلوس پر تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے یوم عاشور کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کی قیادت میں طاقتور اسلام کا ہراول دستہ باقی رہے گا۔
ڈیرہ سٹی حسینی چوک پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے پانچویں محرم الحرام کی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا شہادتوں کا عظیم مشن کربلا سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔شہادتیں ہی عزاداری کی بقا ہیں۔
علامہ سید علی رضا رضوی نے اپنے موضوع دین حکمت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین کی آمد کا مقصد انسان کو طرح کے عیب سے صاف کرنا ہے اور اسکی سوچ ، فکر ، کردار کو جہالت ، جمود ، قدامت پسندی جیسے مضر امراض سے محفوظ رکھنا ہے۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے عقیدہ امامت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولا علی علیہ السلام باب مدینتہ العلم ہیں جو بھی تحصیل علم کا طالب ہے اسے اسی دروازے پر آنا پڑے گا۔
علامہ سید علی رضا رضوی کا کہنا تھا کہ اسلام کی بنیاد عقل و منطق پر استوار ہے اور اس کے پیش کردہ تمام نظریات کا تعلق معقولات سے ہے کیونکہ یہ کسی فرد یا جماعت کے تجربات ، تجزیات ، سوچ و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اسکا مصدر و منبہ وحی الہٰی ہے۔