دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
آیت اللہ حافظ بشیر نجفی نے تاکید کرتے ہوئے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے زیارت کے بعد ہمارے کردار میں مثبت تبدیلی پیدا ہو تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہماری زیارت قبول ہو گئی ہے۔
قصر شیرین کے سنی امام جمعہ ماموستا عادل غلامی نے ایک بیان میں حرم امام رضا علیہ السلام میں تین علماء پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس دہشت گردی اور تکفیری واقعہ کے مرتکب افراد کے خلاف شدید رد عمل کا مطالبہ کیا۔
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اقدامات کو مسترد کرنے پر مبنی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں کے اس اقدام سے ملک میں عدم استحکام کی سی صورتحال پیدا ہو چکی تھی.
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے نجف اشرف میں مراجع عظام حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی و حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاض سے ملاقات کی اور حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید سعید الحکیمؒ کے دفتر میں مرحوم کی روح و پُرفتوح کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔
ماتحت عدالتوں کے لیے یہ فیصلہ مشعل راہ ہے وہ بھی زیر التوا کیسوں میں آئینی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فیصلے صادر کریں
اس مختصر تحریر میں شہیدہ بنت الہدی اور شہید باقر الصدر کی فکری اور عملی مماثلتوں کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ شہید ہ بنت الہدی اپنے فکروعمل میں شہیدصدر ؒکی پیروکار تھیں اور ان کو پیشوا اور مرجع مانتی تھیں۔
شہید سید محمد باقر صدر ؒ ایسے فقہاء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی مختصر زندگی، فکری اور عملی دونوں لحاظ سے زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دشمن کے ہر حملے کا نہایت ہی محکم انداز میں نہ صرف جواب دیا بلکہ ہجومی ٹیکنیک سے بھر پور استفادہ کیا اور مارکسزم و سوشلزم کے یلغار کو پسپا کیا
سیستان و بلوچستان ایران کے سنی علمائے کرام نے گزشتہ روز حرم امام رضا علیہ السلام میں پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاظ اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہےکہ وہابی تکفیری ٹولہ دینِ اسلام کا دشمن اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے ایک بیان میں حرم مطہر امام رضا علیہ السلام کی بے حرمتی اور تین علماء پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔