صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























نہایت اعلیٰ پایہ کے مرجع تقلید، آیت اللہ حاج شیخ اسحاق فیاض طاب ثرٰہ کے انتقال کا افسوسناک خبر سن کر مجھے شدید رنج و غم ہوا ہے،میں اس دردناک موت پر حوزہ علمیہ نجف اشرف، ان تمام مقلدین اور معتقدین بالخصوص افغانستان کی مظلوم اور صابر قوم، اور ان کے معزز خاندان سے تعزیت پیش کرتا ہوں
کھرمنگ بلتستان سے تعلق رکھنے والے عالم دین حجت الاسلام شیخ محمد عبد الله برولمو وفات پاگئے ہیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے مطالبہ کیا ہے کہ جنت البقیع کو دوبارہ تعمیر کرکے عالم اسلام کا عظیم تاریخی ورثہ بحال کیا جائے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ جنت البقیع ہمیں رسول خدا، ان کی آل پاک ؑ اور اصحاب باوفا کے ساتھ عقیدت اور وابستگی کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ لیکن گذشتہ عرصے سے جنت البقیع اور جنت المعلی غم‘ حزن اور ملال کی عملی تصویر پیش کررہے ہیں
بلتستان کے علمائے کرام علامہ شیخ حسن جعفری، سید علی رضوی، سید باقر الحسینی، علامہ ڈاکٹر محمد علی جوہر، مولانا عارف حسین اور دیگر نے عوام کے نام جاری پیغام میں کہا ہے کہ وہ سیاحوں کیساتھ اچھا رویہ اختیار کریں۔ سیاح ہمارے علاقے کے مہمان ہیں۔
بلتستان کے نامور عالم دین کا وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاحت کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سیاح ہمارے علاقے کے مہمان ہیں، عوام الناس سیاحوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئیں۔
سابق نائب صدر شيعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ، مولانا جان محمد ونگانى کى نماز جنازہ، حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا ميں آيت اللہ سيد علوى بروجردى کى اقتداء ميں ادا کردى گئى۔
جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے علامہ سید تطہیر حسین زیدی نے موت کے بعد کام آنے والے کاموں کا ذکر کی اور واضح کیا کہ موت کے بعد دوست ،احباب ، رشتہ دار کام نہ آ سکیں گے ۔ان میں سے کوئی بھی قبر میں ساتھ نہ جائے گا اور نہ بعد کی منازل و مراحل میںکچھ کام آ سکے گا۔
آپ طلبہ سے میری پہلی سفارش بے عملی اور مایوسی سے پرہیز کی ہے۔ ہوشیار رہیے۔ یعنی اپنا خیال رکھیے، اپنے دل کا خیال رکھیے، ہوشیار رہیے کہ بے عملی کا شکار نہ بن جائيے، نا امیدی میں مبتلا نہ ہو جائیے۔
علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم نے مکتب دیوبند میں علمی و فکری مراحل طے کیے اور کچھ عرصہ ایک دیوبندی مجاھد و مبارز عالم کی حیثیت سے فعالیت کی اور پروردگار کی خاص توفیقات ، محمد و آل محمد علیہم السلام کی نظر کرم سے نیز اپنی مسلسل تحقیق و مطالعہ سے شیعہ مکتب کے حق کا اعلان کرتے ہوئے ببانگ دہل مذھب شیعہ خیر البریہ کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔