صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























نہایت اعلیٰ پایہ کے مرجع تقلید، آیت اللہ حاج شیخ اسحاق فیاض طاب ثرٰہ کے انتقال کا افسوسناک خبر سن کر مجھے شدید رنج و غم ہوا ہے،میں اس دردناک موت پر حوزہ علمیہ نجف اشرف، ان تمام مقلدین اور معتقدین بالخصوص افغانستان کی مظلوم اور صابر قوم، اور ان کے معزز خاندان سے تعزیت پیش کرتا ہوں
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے مرکزی دفتر نجف اشرف میں عراق میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفیر احمد امجد علی کا خیر مقدم کیا۔
عید سعید فطر کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 1542 قیدیوں کی سزائيں معاف یا ان میں تخفیف کی موافقت کی۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اپنی اس نئی پالیسی کے ذریعے غاصب صہیونی رژیم کو خبردار کیا ہے کہ وہ خود کو اسلامی مزاحمت کے ساتھ ٹکراو کے نئے مرحلے کیلئے تیار کر لے۔ اس مرحلے میں ایران، غاصب صہیونی رژیم کے کسی بھی احمقانہ اقدام کا جواب براہ راست دے گا۔
والد مرحوم نے فریقین کی کتب تاریخ و عقائد کا تحقیقی مطالعہ کیا اور آل محمد کی مظلومیت ان پر واضح ہوتی چلی گئی بالخصوص حضرت زھراء سلام اللہ علیہا کے ساتھ جو کچھ بعد از رحلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوا مثلا فدک کا معاملہ نے ان پر حق و باطل روشن کردیا ۔
آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے مرکزی دفتر نجف اشرف میں رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی الخامنہ ای کے عراق میں نمائندے حضرت آیت اللہ سید مجتبی الحسینی کا ان کے وفد کے ہمراہ خیر مقدم کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی کل جمعہ 29 اپریل کو عالمی یوم القدس کے موقع پر ٹی وی چینل کے ذریعہ براہ راست خطاب کریں گے۔
مراجع عظام تقلید کی جانب سے (ایران میں رہنے والوں کے لئے) رمضان المبارک 1443ھ کی زکوۃ فطرہ کی مقدار کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایران میں رہنے والے افراد کے لئے فطرہ کی مقدار کے بارے میں مراجع عظام کی نظرات درج ذیل ہیں:
مجمع سیدالشہداء العالمیہ قم کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مایہ ناز عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین حسین مرادی دولت آبادی نے کہاکہ ماہ رمضان کا سب سے بڑا درس خود سازی ہے اور خودسازی کا سب سے اہم اور پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر اور اپنے کردار و رفتار پر تنقیدی نظر ڈالے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایاکہ پھر ان کی سمجھ میں بھی آ گيا تھا کہ امریکا روز بروز اس بیس پچیس سال پہلے کے امریکا کی نسبت، زیادہ کمزور ہو رہا ہے، اندرونی طور پر بھی، داخلہ پالیسیوں میں بھی، خارجہ پالیسیوں میں بھی، معیشت میں بھی، سیکورٹی میں بھی، غرض ہر میدان میں امریکا، بیس سال پہلے کی نسبت اب زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔