زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
شہید سید محمد باقر صدر ؒ ایسے فقہاء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی مختصر زندگی، فکری اور عملی دونوں لحاظ سے زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دشمن کے ہر حملے کا نہایت ہی محکم انداز میں نہ صرف جواب دیا بلکہ ہجومی ٹیکنیک سے بھر پور استفادہ کیا اور مارکسزم و سوشلزم کے یلغار کو پسپا کیا
سیستان و بلوچستان ایران کے سنی علمائے کرام نے گزشتہ روز حرم امام رضا علیہ السلام میں پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاظ اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہےکہ وہابی تکفیری ٹولہ دینِ اسلام کا دشمن اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے ایک بیان میں حرم مطہر امام رضا علیہ السلام کی بے حرمتی اور تین علماء پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
حضرت آیۃ اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے ماهِ رمضان المبارک کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک تمام نیکیوں اور تربیتی پروگراموں کے لئے ایک اہم موقع ہے، لہذا ان قیمتی مواقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور صاحب الامر امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے لئے دعا کریں۔
اسلام کے ابتدائی دور میں کسی جنگی دباﺅ کے بغیر اسلام قبول کرنے والے اہل یمن پر ظلم و ستم کیا جارہا ہے، تیل مشینری پر حملوں کی مذمت اور بے گناہ یمنی مسلمانوں کے خلاف جنگی جارحیت پر خاموشی کہاں کا انصاف ہے؟
اسلام انسان کو سب سے پہلے از لحاظ انسان دیکھتا ہے اور نجف اشرف میں موجود مرجعیت نے اسی پر ماضی میں بھی کام کئے ہیں اور مستقبل میں بھی ہم اسی پر عمل پیرا رہیں گے
عالم اقتصاد میں آپ کی کتاب "اقتصادنا "نے ہل چل مچا رکھی ہے جسے آپ نے 28 سال کی عمر میں تحریر کی تھی،جبکہ اس وقت مارکسزم اور سرمایہ دارانہ نظام سے اسلامی و غیر اسلامی ریاستیں ان کی دی ہوئی ظالمانہ نظام کی دلدل میں پھنستی جارہی تھیں۔
شہید صدر نے اپنی زندگی کے آغاز سے ہی دفاع اسلام کا علم بلند کیا اور اپنے علم اور قلم و زبان کے ذریعے انحرافی اور الحادی افکار کا مقابلہ کیا۔
دور حاضر کا وہ اہم مسئلہ جس نے انسانی فکر کو پراکندہ کردیا اور جس کا تعلق براہ راست انسانی زندگی کی گہرائیوں سے ہے اور ایک ایسے نظام کی تلاش کا ہے جو انسانیت کے لئے مفید اور اجتماعی زندگی کے لئے موزوں و مناسب ہو