صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























نہایت اعلیٰ پایہ کے مرجع تقلید، آیت اللہ حاج شیخ اسحاق فیاض طاب ثرٰہ کے انتقال کا افسوسناک خبر سن کر مجھے شدید رنج و غم ہوا ہے،میں اس دردناک موت پر حوزہ علمیہ نجف اشرف، ان تمام مقلدین اور معتقدین بالخصوص افغانستان کی مظلوم اور صابر قوم، اور ان کے معزز خاندان سے تعزیت پیش کرتا ہوں
رہبر انقلاب اسلامی نے پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکا یا کسی بھی دوسری طاقت کے سامنے جھکنے کو ایک بڑی غلطی اور سیاسی طاقت پر چوٹ بتایا اور کہا کہ اس سے زیادہ سادہ لوحانہ اور احمقانہ تجویز کوئي نہیں ہے کہ کوئي یہ ہے کہ ہم دشمن کو اشتعال دلانے سے بچنے کے لیے اپنی دفاعی طاقت کو کم کر دیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شھید ڈاکٹر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کو دین اور مکتب کی طرف دعوت دیتے تھے، اس لیے کہ ہماری نوجوان نسل گمراہ نہ ہو، دین سے دور نہ ہو، دین کے دائرے میں رہے۔ شھید ڈاکٹر جیسی سوچ و فکر رکھنے والے اشخاص کہاں سے پیدا ہوتے ہیں، یقیناً اس کا جواب کربلا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا غلام باقر گھلو ، مولانا سید حسن رضا نقوی مولانا منور عباس قمی مولانا قیصر عباس قمی بھی ہمراہ تھے.
عالمی سیمینار "گام دوم انقلاب اسلامی" کے پاکستانی سیکرٹری حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے قم میں صحافیوں سے گفتگو میں انقلاب اسلامی ایران کے عالمی سطح پر اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ عالمی سامراج انقلاب اسلامی سے ڈرتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ایران کو دیگر ممالک سے الگ کر دے۔
اسلام آباد میں ہونیوالے اجلاس میں کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے کہا کہ اسوقت ہمیں ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق کی ازحد ضرورت ہے۔ دشمن نے بنیادی طور پر شیعہ سنی ہم آہنگی کی فضا کو نشانہ بنا کر ملک میں فرقہ وارانہ جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔
سید حسن نصراللہ نے کہاکہ امریکا نے اپنے سنگين اور مجرمانہ جرائم کو فراموش کردیا ہے، امریکیوں نے افغانتسان میں شادی کی تقریب کو عزا میں بدل دیا، داعش دہشت گردوں نے پشاور میں امریکا کی خوشنودی کے لئے بے گناہ نمازیوں کو بہیمانہ طور پر شہید کیا، امریکی فوجیوں کے سنگين اور بہیمانہ جرائم سے تاریخ بھری پڑی ہے۔
لبنانی شیعہ اسلامی اسمبلی کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے سانحہ پشاور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ملزمان اور محرکین کی شناخت کیلئے اپنے پوری کوشش بروئے کار لائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اہم تدابیر اختیار کرے۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے امام جمعہ حجت الاسلام سید علی فضل اللہ نے سانحہ پشاور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلم علماء سے درخواست کی ہے کہ اس جنایت اور ان لوگوں کی، جو اس واقعے کے پشت پردہ موجود ہیں، کی مذمت کریں۔
صوبۂ کردستان ایران کے سنی عالم دین نے عالم اسلام کے اتحاد و وحدت کے خلاف کسی بھی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شہر پشاور میں شیعہ جامع مسجد میں دہشت گردی کا واقعہ دشمنوں کی عالم اسلام کے اتحاد و وحدت کو کمزور اور تباہ کرنے کی کوششوں کی واضح مثال ہے۔