زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
پشاور امامیہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے میں "امام جمعہ" مولانا ارشاد حسین خلیلی" بھی شہید ہوگئے ہیں۔
امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے وفد نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے ان کے دفتر جامعہ المنتظر لاہور میں ملاقات کی۔ آئی ایس او کے وفد میں مرکزی انچارج محبین فخر عباس نقوی، سابقین کمیٹی کے کوارڈینیٹر عمار زیدی، سابق مرکزی سیکرٹری جنرل سید انجم رضا ترمذی اور سینیئر رہنما نثار ترمذی شامل تھے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ نے عید بعثت کی مناسبت سے خطاب میں فرمایاکہ یوکرائن میں ایران جنگ بندی کا طرفدار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں جنگ ختم ہو جائے تاہم کسی بھی بحران کا حل تبھی ممکن ہے جب اس کی جڑوں کو پہچان لیا جائے۔ یوکرین کے بحران کی جڑ امریکہ کی بحران ساز پالیسیاں ہیں اور یوکرائن ان پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔
مجمع طلاب سکردو کی جانب سے عیدِ سعیدِ مبعث اور یوم تأسيس مجمع کی مناسبت سے مجمع کے دفتر میں ایک پروقار جشن منعقد ہوا۔
حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای عید مبعث کے موقع پر ملتِ ایران اور پوری دنیا کی مسلم امہ سے ٹیلی ویژن کے ذریعے براہ راست خطاب فرمائیں گے۔
کاظم“ یعنی غصہ پی جانے والا،آپ کا معروف لقب ہے۔غلام سے آپ کے لباس پر سالن گر گیا تو ناصرف اُسے غلطی کا احساس تک نہ دلایا اور معاف کردیا بلکہ جب اُس نے چند آیات تلاوت کیں تو اسے آزاد کر دیاجو اُس زمانے میں بہت بڑا احسان تھا۔
امام موسی کاظم ؑ نے اپنے آباءو اجداد کی سیرت و کردار پر عمل پیرا ہوکر خالص اسلام محمدی کی تعبیر و تشریح، قرآن مجید کی تفسیر اور اسلامی معارف کی روشن تصویر کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں امامت اور سیاسی حاکمیت کے فلسفے کو واضح کیا
امام برحق صبر و رضا کی اعلٰی ترین معراج پر تھے۔ان کی زندگی کے تمام پہلو اپنے جد امجد رسول خدا ﷺ کے اسوہ حسنہ کا عملی اظہار ثابت
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے جامعۃ المنتظر لاہور میں طلباء سے خطاب میں کہا کہ ہم حضرت آیۃ اللہ سید ابوالقاسم خوئی سے جو کچھ کسب کرتے تھے اسے پہلی فرصت میں لکھتے تھے اور اس وقت میرے پاس ان لکھے ہوئے دروس کی تین جلدیں موجود ہیں اور سید ضیاء الحسن نے اس کو ترتیب دیا ہے اور کچھ جلدیں زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں اور کچھ زیر طبع ہے۔