دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہاکہ یکساں قومی نصاب کے مسئلے پر اہل سنت علماء سے بھی کہہ چکا ہوں اور اب دوبارہ اہل سنت اور اہل تشیع علماء سے کہتا ہوں کہ یہ ہمیں بھڑانا چاہتے ہیں تاکہ ہم آپس میں لڑتے رہیں اور پھر حکومت کہے کہ بھائی آپ کی تو لڑائیاں ختم ہی نہیں ہوتی ہیں، آؤ ہم ایسا سلیبس بناتے ہیں جو سیکولر ہو۔ ہم یہ قبول نہیں کریں گے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، مسئلہ کشمیر بھر پور عملی اقدامات سے حل ہوگا، جنگ کے سوا دیگر قابل عمل و قابل حل آپشنز پر غور کیا جائے، تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بڑھنے کے ساتھ مظلوم عوام کی ڈھارس بندھائی جاسکے
پیغمبر اکرم نے اپنے صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کو فرمایا کہ ”تم میرے پانچویں جانشین کا دیدار کرو گے جس کا نام میرے نام پہ ہوگا اور وہ علوم کو شگافتہ کرے گا
بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کی میت کو کچھ دیر پہلے کربلائے پہنچایا گیا اور ہزاروں اشکبار آنکھوں کے سامنے حضرت امام حسین علیہ السلام کے جوار میں سپرد خاک کردیا گیا۔
حضرت حمزہ سید الشہدا علیہ السلام عالمی کانفرنس کے منتظمین سے خطاب میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایاکہ میں واقعی آپ حضرات کا بہت شکر گزار ہوں جنھوں نے اس بارے میں سوچا اور یہ بڑا اقدام انجام دیا۔ البتہ یہ ایک تمہید ہے۔ یعنی آپ کا یہ اقدام اور جناب حمزہ سلام اللہ علیہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ اجلاس، یہ تمہیدی کام ہے، اگلے کاموں کے لیے آئيڈیل معین کرنے والا کام ہے۔ اصل کام تو ہنر کو انجام دینا ہے۔ اس کام کے لیے پرفارمنگ، لسانی اور ویجوول (visual) آرٹس کو استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ حضرت حمزہ جیسی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کا مقصد پورا ہو سکے۔
امتِ واحدہ پاکستان کےسربراہ علامہ محمدامین شہیدی نےعظیم فقیہ و مجتہدآیت اللہ صافی گلپایگانی کی رحلت پر گہرےدکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کے جسد خاکی کو نجف اشرف میں تشییع کے بعد کچھ دیر پہلے تدفین کے لئے کربلا معلیٰ پہنچا دیا گیا.
آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کے جسد خاکی کو جامع مسجد شیخ طوسی سے جلوس کی شکل میں حرم حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام لے جایا گیا، تشییع میں حوزہ علمیہ نجف اشرف کے علماء اور طلاب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
بزرگ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کی نماز جنازہ آیت اللہ کریمی جھرمی کی امامت میں ادا کردی گئی۔