صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























نہایت اعلیٰ پایہ کے مرجع تقلید، آیت اللہ حاج شیخ اسحاق فیاض طاب ثرٰہ کے انتقال کا افسوسناک خبر سن کر مجھے شدید رنج و غم ہوا ہے،میں اس دردناک موت پر حوزہ علمیہ نجف اشرف، ان تمام مقلدین اور معتقدین بالخصوص افغانستان کی مظلوم اور صابر قوم، اور ان کے معزز خاندان سے تعزیت پیش کرتا ہوں
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں سیکورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
نائب سربراہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے کہا کہ جوانوں کے خون کا ایک ایک قطرہ ملک کے تحفظ کا ضامن ہے، بزدل دشمن کا ایک مضبوط قوم سے سامنا ہے، اس قوم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران کے عارضی خطیب جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے عالمی سطح پر امریکہ کی دہشت گردانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ لوٹ مار چاہتا ہے،مذاکرات نہیں ، ویانا میں تمام پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی اور مفسر قرآن شیخ محسن نجفی کی رہنمائی میں جلد قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
علامہ ڈاکٹر حسین اکبر لاہور میں یکساں قومی نصابِ تعلیم کے حوالے سے شیعہ علماء پاکستان کی تحفظات پر مبنی ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکساں قومی نصاب پر ہماری گہری نظر رہی ہے اور ان کتابوں کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کتابوں سے تاریخی مسلمات کو سرے سے نکال دیا گیا ہے
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری نے کہاکہ حکومت پاکستان نے نہایت ہی اچھے انداز میں یہ اعلان کیا تھا کہ تمام پاکستانیوں کے لئے ایک ہی نصاب تیار کیا جائے گا اس اعلان پہ ہر محب وطن پاکستانی کو خوشی ہوئی لیکن جب یہ نصاب ہمارے سامنے آیا تو اس میں بہت سارے نقائص موجود تھے۔
انہوں نے تعزیتی پیغام میں کہاکہ علامہ سید خادم حسین نقوی کی ناگہانی وفات پر نہایت افسوس ہوا، علامہ مرحوم بہت سے شاگردوں کی علمی فکری تربیت کے ساتھ ساتھ علامہ خادم حسین نقوی نہایت محبت کرنے والے اور غریب پرور شخصیت کے مالک بھی تھے۔
مقررین کاکہنا تھا کہ وزارتِ تعلیم کے مطابق اسلامی اصولوں اور قائد اعظم کے نظریات کے مطابق نصاب تشکیل دینے کا عزم کیا گیا تھا مگر بدقسمتی سے متنازعہ نصاب مرتب کیا گیا ہے۔
اجلاس میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے صحت سہولت کارڈ کیلئے علماء کرام، مشائخ عظام، موذن، آئمہ و خطباء اور مدارس عربیہ کے اساتذہ کیلئے خصوصی اہتمام پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔