دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
اس موقع پر علامہ سید عابد حسین الحسینی نے نئی انجمن حسینیہ کے اراکین کو مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اور اہم قومی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
مقررین نے کہا کہ نصاب تعلیم کیلئے سید ضیاء الدین رضوی نے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، آج سترہ سال گزرنے کے باوجود اس وقت کے وزیراعظم کے احکامات کو ردی کے ٹوکری میں ڈال دیا گیا اور اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ شہید سید ضیاء الدین رضوی کے قاتلوں کو گرفتار کر سزا دی جائے اور نصاب تعلیم کا مسلہ فی الفور حل کیا جائے۔
شیعہ علماءکونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے یکساں نصاب کے نام پر متنازع مواد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ نصاب مسلکی کہا جاسکتا ہے ،تمام مکاتب فکر کا متفقہ نہیں ہے۔تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاج کریں گے۔
ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے یمن میں جاری مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں سیکورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
نائب سربراہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے کہا کہ جوانوں کے خون کا ایک ایک قطرہ ملک کے تحفظ کا ضامن ہے، بزدل دشمن کا ایک مضبوط قوم سے سامنا ہے، اس قوم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران کے عارضی خطیب جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے عالمی سطح پر امریکہ کی دہشت گردانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ لوٹ مار چاہتا ہے،مذاکرات نہیں ، ویانا میں تمام پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی اور مفسر قرآن شیخ محسن نجفی کی رہنمائی میں جلد قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
علامہ ڈاکٹر حسین اکبر لاہور میں یکساں قومی نصابِ تعلیم کے حوالے سے شیعہ علماء پاکستان کی تحفظات پر مبنی ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکساں قومی نصاب پر ہماری گہری نظر رہی ہے اور ان کتابوں کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کتابوں سے تاریخی مسلمات کو سرے سے نکال دیا گیا ہے