صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























نہایت اعلیٰ پایہ کے مرجع تقلید، آیت اللہ حاج شیخ اسحاق فیاض طاب ثرٰہ کے انتقال کا افسوسناک خبر سن کر مجھے شدید رنج و غم ہوا ہے،میں اس دردناک موت پر حوزہ علمیہ نجف اشرف، ان تمام مقلدین اور معتقدین بالخصوص افغانستان کی مظلوم اور صابر قوم، اور ان کے معزز خاندان سے تعزیت پیش کرتا ہوں
چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی سے وفد کے ہمراہ ان کے مرکزی دفتر نجف اشرف میں ملاقات کی۔
انہوں نے آئمہ جماعت سے امید ظاہر کی کہ وہ علمائے حقا کا کردار ادا کرتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں جبکہ عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کردار میں علماء کا بھرپور ساتھ دے کر ملک کی مستقبل کو روشن بنائیں۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ نے بزرگ عالم دین حجت الاسلام و المسلمین علامہ سید افتخار حسین نقوی سے پکی شاہ مردان میں ملاقات کی۔
آل انڈیا شیعہ کونسل نے کرناٹک میں طالبات کے حجاب پر اسکول انتظامیہ کی طرف سے لگائی گئی پابندی کی پرزور مذمت کی اور اس اقدام کو سیکولر اقدار کے خلاف قرار دیا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے جامعہ امام خمینی ماڑی انڈس میں علامہ افتخار حسین نقوی صاحب کی طرف سے منعقدہ عظیم الشان علماء کانفرنس میں شرکت کی۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا: آج بھی اسلامی نظام کے حقائق، کارناموں، پیشرفتوں اور شجاعانہ اقدامات کی تحریف کی غرض سے جاری دشمن کی یلغار سے مقابلے کے لیے تشریح کے جہاد کی فوری اور یقینی ذمہ داری کی بنیاد پر ایک ہمہ جہتی دفاعی اور جارحانہ اقدام کی ضرورت ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ عقیدہ توحید دین کی بنیاد ہے۔اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ناقابلِ معافی ہے۔قرآن کی رو سے شرک کے مرتکب کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔تکبّر نہایت ہی بری صفت ہے ۔اسی بنا پر ابلیس ،شیطان قرار پایا تھا۔گفتار و رفتار میں عاجزی و انکساری پسندیدہ صفت ہے۔
آج سوشل میڈیا کادور ہے یعنی پوری دنیا سمٹ کر آپکی جیب میں آگئی ہے اس کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس کے بے پناہ فوائد ہیں اور خدا نخواستہ غلط استعمال کیا گیا تو اسکے مہلک نتائج بھی ہیں اس لئے آج نئی نسل کے جدید خطوط پر تربیت ضروری ہے
انہوں نے فرمایا داڑھی رکھنا کم از کم اتنا واجب ہے کہ کنگھی ہو سکے۔اگر داڑھی اس سے کم ہو تو یہ داڑھی کافی نہیں ہے اور مزید یہ کہ انسان گناہ گار ہوگا۔