زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
انہوں نے کہاکہ حجۃ الاسلام و المسلمین مرحوم علامہ سید خادم حسین نقوی کی وفات ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، علامہ سید خادم حسین نقوی جامعہ المنتظر کے طالبعلم تھے اور پھر علمِ دین حاصل کرنے کے بعد جامعۃ المنتظر میں مثالی خدمات سرانجام دیں۔
مدرسہ الامام المنتظر قم کے سربراہ علامہ سید محمد حسن نقوی نے حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کے سنئیر استاد علامہ سید خادم حسین نقوی وفات پر تعزیتی پیغام میں کہاکہ علامہ سید خادم حسین نقوی کی وفات ہم سب کو سوگوار کر گئی ہے۔
حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کے مہتمم اعلیٰ علامہ محمد افضل حیدری نے حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر کے بزرگ استاد مرحوم علامہ سید خادم حسین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم علامہ خادم حسین نقوی کی دینی اور علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آسٹریلیا میں آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کے وکیل حجت الاسلام مولانا سید ابو القاسم نے آسٹریلیا اور لکھنؤ کے مومنین کے ساتھ آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی سے ان کے مرکزی دفتر نجف اشرف میں ملاقات کی۔
حجۃ الاسلام ولی اللہ لونی نے کہا کہ شبہات پیدا کرنے اور دشمنوں کی سازشوں کے خلاف منصوبہ بندی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے ، ہمیں صرف اپنے عقائد کے بارے میں شبھہ پیدا کرنے کے انتظار میں نہیں رہنا چاہئے بلکہ ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے تاکہ دشمنوں کی سازشوں اور ناپاک عزائم کو خاک میں ملائیں۔
انہوں نے کہاکہ یمن کے تنازعہ اور حالیہ صورتحال پر ملکی رد عملٍ فریقین کے حوالہ سے مساویانہ نہیں بلکہ یکطرفہ ہے، بین الاقوامی مسائل کوبین الاقوامی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اس میں شک نہیں کہ دنیا میں تعلقات برابری کے ساتھ مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں
حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر لاہور کے سینیئر مدرس ، بزرگ عالم دین مولانا سید خادم حسین نقوی صاحب بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔
حجت الاسلام سید شہنشاہ حسین نقوی نے اپنے وفد کے ہمراہ آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی سے ان کے مرکزی دفتر نجف اشرف میں ملاقات کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود آج تک اس کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں، حکمران قانون کی حکمرانی، جمہور، دستور کی بالادستی کی صرف مالا جپتے ہیں، مگر عملاً سب کچھ مفادات کی نذر کر دیا جاتا ہے، یہی حال اردو زبان کے ساتھ کیا جا رہا ہے، زبان زندہ قوموں کی پہنچان ہوا کرتی ہے،