زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
حوزہ علمیہ نجف اشرف و عراق کے دیگر دینی مدارس کے طلباء و طالبات کی سہولت کیلئے نجف اشرف میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے شعبہ نے فعالیت شروع کردی ہے۔
علامہ شیخ شفا نجفی نے کہاکہ حضرت زہراؑ صرف ایک مثالی بیٹی ہی نہیں بلکہ ایک مثالی بیوی بھی ہیں، ایک ایسی بیوی کہ جن کی عظمت کا معترف امام علی ؑ جیسا عظیم انسان بھی ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ دنیا میں قوّت برداشت کے اعتبار سے انسان دو طرح کے ہیں، بعض چھوٹی چھوٹی مشکلات سے بھی بوکھلا جاتے ہیں اور بعض بڑی بڑی مشکلات کو صبر اور حوصلے سے سر کرجاتے ہیں۔
مرکزی وفد جنوبی پنجاب کے بعد وسطی پنجاب کے دورے پر ہے، جو فیصل آباد اور چنیوٹ کے بعد جھنگ پہنچا ہے، ایس یو سی کے مرکزی قائدین جہاں عوامی رابطہ مہم کر رہے ہیں، وہیں تنظیم سازی پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
اس موقع پر آیت اللہ حمید شہریاری نے اتحاد امت کیلئے پاکستان میں مجمع جہانی تقریب مذاہبِ اسلامی کے سابق رکن بزرگ عالم دین علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
امیر جماعت اسلامی سندھ نے پاسداران اسلامی انقلاب کے اعلی کمانڈر کے قتل میں امریکی دہشتگردی کاروائی کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سردار سلیمانی نے امت مسلمہ کے حقوق کے دفاع کی راہ میں جد و جہد کی۔
شیعہ علماءکونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے مری میں برفباری کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے مری برفباری میں پھنسے ہوئے سیاحوں کی اموات پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامی اداروں سے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا تحفظ بنیادی ذمہ داری ہے، جس کیلئے ٹھوس اقدمات کے ذریعہ انتظامیہ اور حکومت کیجانب سے ایسا میکنزم بنائے جانے کی اشد ضرورت ہے، جس سے ایسا افسوسناک اور دلخراش واقعہ دوبارہ وقوع پذیر نہ ہو۔
رہبر معظم کے پاکستان کے عوام بارے اس عظیم جملے نے پاکستان کے عوام کی استعمار دشمنی ، مظلومین کی حمایت اور اسلام کے حقیقی مجاہدین کی عوام میں دِلوں میں محبت کو سراہا ہے۔