دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
انہوں نے علامہ قاضی نیاز حسین نقوی کو دینی طالبعلموں کے لئے نمونہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ علامہ قاضی صاحب کا تمام تر سہولیات کے باوجود قم کو چھوڑنا ہمارے لئے نمونہ عمل ہے، اتنے سال ایران میں خدمات انجام دینے کے بعد یہاں سے پاکستان چلے گئے اور وہاں بھی جراتمندانہ اقدامات کیے۔
مدرسہ الامام المنتظر(عج) کے شعبہ فرھنگی تربیتی کی جانب سے شہید علماء کی تجلیل کے حوالے سے ساتواں سالانہ پروگرام منعقد ہوا۔ پروگرام میں حوزہ علمیہ قم کے اساتید، علماء اور طلاب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
بلتستان سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد یوسف جوہری کی کتاب"مثالی گھرانہ قرآن و سنت کی روشنی میں"چھپ کر منظر عام پر آگئی ہے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے اسلام آباد میں مفسر قرآن بزرگ عالم دین علامہ شیخ محسن علی نجفی سے ملاقات کی ہے۔
"اسلاموفوبیا اور مذہبی شدّت پسندی" کے موضوع پر منعقدہ آنلائن سیشن سے گفتگو میں حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی کہاکہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور اس کا عالمی منشور اور ایجنڈا 'صلحِ جہانی' ہے۔یوں اس کے تمام احکام و قوانین بھی آفاقی و جہانی ہیں۔ اسلام کے قانون کا نام ' قرآن' اور اس کے رہبر کا نام 'محمدؐ' ہے۔اسلام اپنے اندر ہر قوم و قبیلہ اور ہر خطے کے لوگوں کو اپنانے کی ظرفیّت رکھتا ہے لیکن افسوس آج دنیا میں بعض نادان افراد کی نادانی اور جہالت کی وجہ سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔
شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی سے سری لنکا ہائی کمیشن کے ڈیفینس ایڈوائزر منسٹر کونسل بریگیڈیر شیونتھ کلاتنگے نے ٹیلی فونک رابطہ کر کے ایس یو سی کی جانب سے سیالکوٹ واقعے کی مذمت اور سری لنکن عوام سے اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اس ملاقات میں مرجع جہان تشیع حضرت آیۃ اللہ العظمی سیستانی نے کربلا میں حرم حضرت امام حسین علیہ السلام سے وابستہ، کینسر کی بیماری سے نمٹنے والے انٹرنیشنل فاؤنڈیشن"وارث"کی جانب سے کینسر کے مریضوں کے لئے فراہم کی جانے والی خدمات کی قدردانی کرتے ہوئے اسے انسانیت کی خدمت قرار دیا۔
اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ ہی معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے، مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ کچھ افراد کی وجہ سے عدلیہ متنازع بھی رہی ہے۔ جس کی وجہ سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی۔ غیر جانبدار جج بھی عدلیہ میں موجود رہے اور اب بھی ہیں لیکن عدلیہ کو اپنے چہرے پر لگے داغ دھبوں کو دھونا ہوگا۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ پاکستان تمام مسلمانوں نے مل کر بنایا تھا اور ہم سب کو مل کر اس کی جغرافیائی حدود کا دفاع کرنا ہے اور پاکستان سے انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے، موجودہ حکمرانوں نے مہنگائی کے سبب عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، ملک کی صورتحال انتہائی ابتر ہوگئی ہے، حکمران عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں بھی ناکام نظر آتے ہیں۔