رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سزااور جزا ایک عمل ضرورہے مگر ہر قدرتی آفت کو” عذاب “کے زمرے میں ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا، اس میں انسانی نا اہلی، عدم توجہی ، بروقت اقدامات نہ اٹھائے جانے اور پیشگی اطلاعات نہ دینے کے عوامل اور ناقص کارکردگی بھی شامل ہو تی ہے ، گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل سیلاب ، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کا ملک کو سامنا ہے مگر کیا امداد کے سوا کوئی اقدام اٹھایاگیا ؟
سیلاب متاثرین کی بلا تفریق مذہب و مسلک امداد کی جارہی ہے۔ مسلک کی بنیاد پر امدادی سامان کی تقسیم کا کچھ افراد کی طرف سے منفی تاثر ،درست نہیں
اس تقریب میں شیخ الجامعہ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ نے اپنے معزز مہمانوں کی خدمت میں ایک یادگار شیلڈ اور کتب کا تحفہ پیش کیا
مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی یومِ دفاع کے موقع پر کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاک فضائیہ کی 5 خواتین اہلکاروں سمیت 60 جوانوں نے شرکت کی۔
پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اسے داخلی اور معاشی طور پر مضبوط کیا جائے اورآئین و قانون کی بالادستی کےساتھ بیرونی اور عارضی سہاروں کی بجائے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا ہو گا۔
انہوں نے سیلاب زدہ عوام سے ان کی احوال پرسی کی اور ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا، اس موقع پر علامہ سید انتظار مہدی نجفی نے متاثرین کے گھر گھر جا کر انہیں علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے بھیجی گئی امدادی رقوم کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو یکجہتی اور تعاون کا علمبردار ہونا چاہیے، انہو نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے پہلے دن سے کہا ہے، اہلبیت علیہم السلام ورلڈ اسمبلی، غیر شیعوں سے مقابلے اور دشمنی کے لئے ہرگز نہیں ہے اور ابتدا سے ہی ہم نے غیر شیعہ برادران کا، جو صحیح راستے پر بڑھ رہے ہیں، ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا پیغمبر اکرم کا پہلا پیغام توحید تھا تاکہ انسانیت فلاح پاکر کامیاب ہو جائے۔ یعنی اگر انسان کسی شیطان، طاغوت اور ہویٰ و ہوس کے سامنے نہیں جھکتا اورصرف اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرتا ہے تو وہ سچا مسلمان ہے۔ ان کا کہنا تھا انسان اگر کاغذ قلم سے اپنی روزانہ کی کارکردگی لکھے اور شام کو خود چیک کرے تو اسے پتہ چلے گا کہ اس نے دن کا تقریباً کافی حصہ فضولیات میں گزاردیا ہے۔ اس لئے تقویٰ و پرہیز گاری کے لئے انسان کو خوداحتسابی اور خود سازی پر توجہ دینی چاہیے ۔
انہوں نے کہا مسلمان سات آٹھ سو سال تک حاکم رہے تو ترقی کرتے رہے اور سب سے آگے رہے لیکن اس کے بعد جب وہ دوسروں کی غلامی میں تین سو سال تک رہے تو وہ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ غلامی کی زنجیریں ابھی تک نہیں توڑ پائے۔