مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
پہلے ہی ان ر وشن اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے وطن عزیز کا بہت زیادہ نقصان ہوچکا لیکن اب یہ ملک مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف اور گڈ گورننس کو قائم کرکے قائد اعظم کے پاکستان کو موجودہ گھمبیر اور سنگین مسائل و مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے، پورا ملک سیلاب سے متاثر ہے، آج پھر اسی جذبے کی ضرورت جو ایثار کا جذبہ قیام پاکستان کے وقت تھا۔
یاد رہے کہ اس علاقے میں ایک معیاری دینی درسگاہ کے قیام کی ضرورت کو ایک عرصے سے محسوس کیا جا رہا ہے جس کے قیام کو بالآخر شیخ الجامعۃ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کی مساعی جمیلہ اور خصوصی اقدامات نے ممکن بنایا
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سزااور جزا ایک عمل ضرورہے مگر ہر قدرتی آفت کو” عذاب “کے زمرے میں ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا، اس میں انسانی نا اہلی، عدم توجہی ، بروقت اقدامات نہ اٹھائے جانے اور پیشگی اطلاعات نہ دینے کے عوامل اور ناقص کارکردگی بھی شامل ہو تی ہے ، گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل سیلاب ، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کا ملک کو سامنا ہے مگر کیا امداد کے سوا کوئی اقدام اٹھایاگیا ؟
سیلاب متاثرین کی بلا تفریق مذہب و مسلک امداد کی جارہی ہے۔ مسلک کی بنیاد پر امدادی سامان کی تقسیم کا کچھ افراد کی طرف سے منفی تاثر ،درست نہیں
اس تقریب میں شیخ الجامعہ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ نے اپنے معزز مہمانوں کی خدمت میں ایک یادگار شیلڈ اور کتب کا تحفہ پیش کیا
مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی یومِ دفاع کے موقع پر کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاک فضائیہ کی 5 خواتین اہلکاروں سمیت 60 جوانوں نے شرکت کی۔
پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اسے داخلی اور معاشی طور پر مضبوط کیا جائے اورآئین و قانون کی بالادستی کےساتھ بیرونی اور عارضی سہاروں کی بجائے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا ہو گا۔
انہوں نے سیلاب زدہ عوام سے ان کی احوال پرسی کی اور ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا، اس موقع پر علامہ سید انتظار مہدی نجفی نے متاثرین کے گھر گھر جا کر انہیں علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے بھیجی گئی امدادی رقوم کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو یکجہتی اور تعاون کا علمبردار ہونا چاہیے، انہو نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے پہلے دن سے کہا ہے، اہلبیت علیہم السلام ورلڈ اسمبلی، غیر شیعوں سے مقابلے اور دشمنی کے لئے ہرگز نہیں ہے اور ابتدا سے ہی ہم نے غیر شیعہ برادران کا، جو صحیح راستے پر بڑھ رہے ہیں، ساتھ دیا ہے۔