رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
مرحوم ایک عرصہ سے سے علیل تھے اور آج دار فنا سے دار بقا کو لبیک کہا۔آپ کی رحلت علمی ودینی حلقوں میں ایک خلاء ہے جس کا پر ہونا تادیر مشکل ہے۔
حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی نے بتایا کہ حرم سے وابستہ آستان قدس رضوی مشہد مقدس میں زائرین کی مشکلات کے حل کے حوالے سے کسی بھی منصوبہ کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے حکومت اور دیگر فلاحی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئےمکمل طور پر تیار ہے ۔
کربلا شہر کی حدود میں داخل ہونے کے مرکزی راستوں کی ابتدا میں نصب کیے گئے گنتی کے برقی نظام سے حاصل شدہ اعداد وشمار کے مطابق اربعین کے احیاء کے لیے کربلا آنے والے زائرین کی تعداد (21,198,640) دو کروڑ، گیارہ لاکھ، اٹھانوے ہزار، چھ سو چالیس ہے۔
یورپی ممالک میں اسلامو فوبیا میں بڑھتا جارہا ہے اور بالخصوص اسکنڈیناوی ممالک میں اس کا سلسلہ مزید تیز ہوگیا ہے اور ہر آئے دن مقدس مقامات کی توہین کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔
سب سے بڑے انسان وه ہیں جو امام مہدی (عج) کے انتظار میں ہوں کیونکہ ان کے انتظار سے مراد ایک عالمی امید، عالمی خیر و برکت، عالمی عدل و انصاف اور عالمی سطح پر امن و امان.
مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں،شیعہ علماء کونسل پاکستان کا ہر جوان امدادی کارروائیوں میں بلا تفریق بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے
اگر کوئی قانون پارلیمنٹ سے قرآن و سنت کے خلاف بنتا ہے، تو فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے
پہلے ہی ان ر وشن اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے وطن عزیز کا بہت زیادہ نقصان ہوچکا لیکن اب یہ ملک مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف اور گڈ گورننس کو قائم کرکے قائد اعظم کے پاکستان کو موجودہ گھمبیر اور سنگین مسائل و مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے، پورا ملک سیلاب سے متاثر ہے، آج پھر اسی جذبے کی ضرورت جو ایثار کا جذبہ قیام پاکستان کے وقت تھا۔
یاد رہے کہ اس علاقے میں ایک معیاری دینی درسگاہ کے قیام کی ضرورت کو ایک عرصے سے محسوس کیا جا رہا ہے جس کے قیام کو بالآخر شیخ الجامعۃ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کی مساعی جمیلہ اور خصوصی اقدامات نے ممکن بنایا