دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
مام رضا علیہ السلام نے ریان بن شبیب سے فرمایا کہ اگر آپ کسی چیز کے لئے رونا چاہتے ہیں تو امام حسین علیہ السلام پر روئے کیونکہ جب انسان کے آنسو امام حسین علیہ السلام کی یاد میں،اس کے رخسار پر جاری ہو جائے تو خداوند اس کے تمام چھوٹے اور بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
تمام جلوسوں کو روایتی بنانے پھر ایک ایک کرکے انہیں ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی چنانچہ پہلے مرحلے میں لائسنس ہولڈرز کی وفات پر وارثوں کے نام لائسنس منتقل کرنا بند کیا جانا د وسرے مرحلے میں بعض روایتی جلوسوں کو سازش کے تحت شرپسندوں کے ذریعے رکوایا جاتا ہے اور انتظامیہ وعدہ کرتی ہے کہ یہ جلوس آئندہ سال نکلوا دیا جائے گا لیکن اگلے سال جلوس نکالنے سے انکار کردیا جاتا ہے۔
اس تقریب کے مہمان علماء میں ملک کے بزرگ عالم دین مولانا مزرا یوسف حسین ، حوزہ علمیہ قم کے اساتید حجۃ الاسلام شیخ محمد علی ممتاز، حجۃ الاسلام ڈاکٹر مشتاق حسین حکیمی، حجۃ الاسلام شیخ محمد حسین طاہری اور بین الاقوامی قاری وحافظ شیخ محمد علی قمی ، شیخ محمد تقی ممتاز اور شیخ احمد علی جوہری شامل تھے۔
ایام عزاءمسلمانوں کے درمیان دین الہٰی اور اہلبیت محمد کی محبت وعقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہیں لیکن ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے
بلتستان سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم دین،نائب امام جمعہ کچورا بلتستان حجتہ الاسلام والمسلمین شیخ اعجاز حسین مختصر علالت کے بعد آج آبائی گاوں کچورا میں انتقال کر گئے ہیں.
امیر المومنین علی علیہ السلام کا فرمان ہے قبر سے ہی قیامت شروع ہو جاتی ہے۔اچھے آدمی کو قبر میں سکون ملے گا جبکہ بدکاروں کا عذاب قبر سے شروع ہو جائے گا۔انہوںنے کہا کہ اللہ پر ایمان انسانی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔کافر بھی جب مصیبتوں میں گِھر جاتے ہیں تو دل سے مانتے ہیں
پاکستانی دینی مدارس کا ترجمان “15 روزہ وفاق ٹائمز” کی آٹھویں اشاعت پی ڈی ایف فائل کی صورت میں شائع کردی گئی ہے۔
چیئر مین محمد صادق سنجرانی نے مشہد کا دورہ کیا
ہر شخص کی یکم محرم اور ایامِ عزا کے بعد کی فکر و کردار میں واضح فرق ہونا چاہئے۔اگرکسی میں تبدیلی نہیں تو اُس نے محرم کوفکر و کردار کی تبدیلی کے طور پر نہیںبلکہ رسم و رواج سمجھ کر گزارا ہے۔