دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
تمام مسالک متحد ہوکر اس کا مقابلہ کریں، بہاولنگر شہر میں جلوس عزاء پر دستی بموں سے حملہ پنجاب حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عاشورا محرم الحرام 1443ھ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ عاشورا حریت کی ایک تعبیر بن چکا ہے اور جب بھی عاشورہ کا ذکر ہوا تو انسان کے ذہن میں امام حسینؑ اور ان کی لازوال قربانی کا نقش اجاگر ہوا۔روز عاشور سے قبل شب عاشور بھی اپنے اندر ایک الگ تاریخ کی حامل ہے جب امام ؑ عالی مقام نے عاشورا کے حقائق سے اپنے ساتھیوں ، جانثاروں اور بنو ہاشم کو آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ عاشورا برپا ہونے کی عملی شکل کیا ہوگی؟
یوم عاشور کے موقع پر اپنے خطاب میں سید حسن نصراللہ کاکہنا تھا کہ امریکہ کی بیشتر حکومتیں دنیا میں ظلم بربریت میں آگے آگے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی شکست کے بعد اب سب کی نگاہیں عراق اور شام پر لگی ہوئي ہیں۔
جو مجلس کا زیادہ اہتمام نہیں کرسکتا وہ شخص اپنے مکان کی چھت پر کھڑا ہو کر امام حسین علیہ السلا م کے روضہ اقد س کی طرف منہ کرکے سلام بھیجے،
جامعتہ الکوثر میں روز عاشور بعد از نماز ظہرین مجلس عزاء برپا ہوتی ہے جس میں راولپنڈی و اسلام آباد کے تین ہزار سے زائد مومنین و مومنات شرکت کرتے ہیں۔اس موقع پر فاقہ شکنی کا خصوصی اہتمام بھی کیا جاتا ہے
انہوں نے کہا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر محرم کمیٹی دن رات کام کررہی ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل20کے مطابق تمام مکاتب فکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اپنے عقائدکے مطابق آزادی کےساتھ عبادات اور رسومات ادا کریں۔ کوئی ایگزیکٹوآرڈر یا SOP عوام کے بنیادی حقوق کوغصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ شہدائے کربلاءکی یاد اسلامی ،انسانی اقدار کی ترویج کی ضامن ہے۔ اسلامی تعلیمات کے بیان سے مجالسِ عزاتعلیمی اور تربیتی درس گاہوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔قرآنی تعلیمات کے ابلاغ کے لئے منبرِ حُسینی صدیوں سے بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
مدینہ سے روانگی سے قبل اپنے بھائی جناب محمد بن حنفیہ کے نام خط میں لکھا ” میں فتنہ و فساد برپا کرنے یا اپنی شہرت کے لئے نہیںبلکہ اپنے جد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے امور کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں۔میں نے نیکیوں کاحکم دینے،برائیوں سے روکنے اور اپنے جد بزرگوار اور والد علی ابن ابی طالب کی سیرت کی پیروی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔۔۔۔“
محقق محترم، نامور تاریخ دان اور برجستہ و انتھک عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ مہدی پیشوائی کو کی رحلت پر جنہوں نے اپنی پوری عمر تاریخ اسلام کی تدوین اور قابل فخر کتابوں کی تعریف میں گزار دی، بہت دکھ اور افسوس ہوا۔مرحوم کی دقت نظر بے نظیر تھی۔