دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
حجت الاسلام سید میثم ہمدانی نے کہا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے اپنی تمام زندگی میں اسلام کے سچے سپاہی ہونے کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اسلام کو عملی طور پر اپنی زندگی پر لاگو کیا۔ سیاست کا میدان ہو یا معاشرہ سازی کی آزمائش ہو، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اسلام کے ہراول دستے کے طور پر فعال رہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اپنی ذات میں ملت تھے۔
جامعۃ القائم ٹیکسلا میں القائم ایجوکیشن سسٹم کے نام سے حفظ قرآن کے شعبہ کی بنیاد رکھی گئی ہے جس میں حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ مروجہ تعلیم بھی دی جائے گی.
شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا یمن کی موجودہ صورتحال پر جاری بیان میں کہنا ہے کہ اس وقت یمن کا بنیادی نقشہ تباہ ہوچکا ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، ہزاروں لوگ جن میں خواتین، بچے، بزرگ شامل ہیں وہ اپنی زندگیوں کی بازی ہار چکے ہیں۔
اس مقابلہ میں جامعہ الکوثر کے طلباء کی جانب سے مجموعا 16 تحقیقی مقالے وصول ہوئے۔ نشست میں ان کی نمائندگی کرتے ہوئے کفایة الاصول کے طالب علم شبیر حسین حیدری نے اپنے مقالہ کا خلاصہ احسن انداز میں بیان کیا.
مرحوم و مغفور حوزہ علمیہ نجف اشرف کے بااخلاق اور برجستہ اساتید میں سے تھے اور علمی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سید حسن نصر اللہ کے نام ایک پیغام جاری کرکے لبنان کے مجاہد عالم دین اور لبنان کے مسلم اسکالرز کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاضی شیخ احمد الزین کے انتقال کی تعزیت پیش کی۔
حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور میں یوم پاکستان کے موقع پر ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہورہا ہے۔ جس میں ہزاروں فارغ التحصیل علمائے کرام ، فضلاء، زعماء ، خطباء اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات شرکت کریں گے۔
مرکزی دفتر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاق المداس کی مجلس عاملہ کا اجلاس 23 مارچ بروز منگل 8 بجے صبح حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور میں ہوگا جس میں مدارس کے سربراہان شرکت کریں گے۔
حجت الاسلام و المسلمین سید احمد اقبال رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے قانون کا نصاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس میں مولا علی علیہ السلام کے فیصلہ جات کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ رسول ص کے فرمان کے مطابق علی علیہ السلام اس امت میں بہترین قاضی ہیں، اس کی مثال خلفائے راشدین کا دور ہے جس میں جب بھی صحابہ کو کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی تو وہ مولا علی علیہ السلام کو مدد کے لیے پکاڑتے.