دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
حجت الاسلام علی اکبری نے علما، محققین اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے قدیم شاگردوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نورانی کتاب میں جو بہترین جدّت اور روش نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے مقدمے میں "250 سالہ انسان" کے اصل نظریئے کو بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس عمدہ نظریئے کے سلسلے میں بہت زیادہ جد وجہد کرنی ہوگی ۔
نجف اشرف ، بغداد اور عراق کے دیگر شہروں میں پاپ فرانسس کو خوش آمدید کہنے کیلئے قدآور بورڈز آویزاں کیئے گئے ہیں ۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ و جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر سعودی عرب کی بربریت اور جارحیت کے نتیجے میں ہر 10 منٹ میں ایک یمنی بچہ شہید ہورہا ہے۔
پاکستانی دینی مدارس کا ترجمان "15 روزہ وفاق " کی دوسری اشاعت پی ڈی ایف فائل کی صورت میں شائع کردی گئی ہے۔
لبنانی معروف سنی عالم دین اور اتحاد بین المسلمین کے داعی شیخ احمد الزین داعی اجل کو لبیک کہہ گئے. مرحوم لبنانی مسلم علماء کونسل کے سربراہ اور فلسطینی کاز کے حامیوں میں سے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ کے علاوہ خطہ لداخ میں بھی ایک وقف بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے جو شیعہ مسلمانوں کے لئے ہوگا۔ وادی کشمیر میں اکثر شیعہ تنظیموں نے مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر میں شیعہ وقف بورڈ قائم کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
حجت الاسلام الصافی بصرہ میں،الابلۃ مسجد کے خطیب،امام جمعہ و جماعت اور آیت اللہ العظمی سیستانی کے وکیل تھے
دفتر آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی سے جاری بیان میں آیا ہے کہ ہمیں عالم جلیل القدر علامہ سید علی عبد الحکیم الصافی کی نہایت ہی افسوسناک وفات کی خبر موصول ہوئی۔مرحوم نے دین حنیف کے فروغ اور مؤمنین کی حمایت میں اپنی عظیم زندگی کو صرف کردیا۔خداوند نیک لوگوں کو ان نیکی کا جزا عطا فرمائے۔
یاد رہے 20 فروری ،2021 کو ،آنے والے 5.6 شدت کا زلزلے نے، دینہ شہر اور اس کے آس پاس کے دیہاتوں میں تباہی مچا دی زلزلہ کا مرکز کوہ گلیلویہ اور بوئیر احمد تھا اور صدر مقام یاسوج شہر کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ زلزلے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، بلکہ لوگوں کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے اس کے علاوہ اس زلزلہ میں تقریباََ 67 افراد زخمی ہو گئے۔