دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
آخر میں علامہ عارف حسین واحدی نے کشمیری لیڈر علی گیلانی کے صبر و استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم حریت رہنما کی جموںو کشمیر کی آزادی کیلئے پُر خلوص جد وجہد و خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی، انہوں نے سید علی گیلانی مرحوم کے بلندی درجات کےلئے دعا کی۔
امام سجاد ؑ واقعہ کربلاکے عینی شاہد ہیں آپ ؑ نے جس طرح واقعہ کربلا کے حقائق کو بیان فرمایا اور اپنی تبلیغ و ادعیہ کے ذریعے دنیا کو قیام امام ؑ کے اہداف سے آگاہ کیا، اپنے کردار وعمل کے ذریعے یزیدیت کو بے نقاب کیا اور حسینیت کے خدوخال کو جس طرح واضح کیا یہ انداز باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی ہرقوت کے لئے رہنما حیثیت رکھتا ہے۔
یوم وفات زین الاتقیااستاد العلماء حضرت علامہ سماحہ السید گلاب علی نقوی البخاری قدس سرہ کے موقع پر تمام مومنين و مومنات ، علماء کرام ، مراجع عظام اور بالخصوص امام زمانہ (عج) کی خدمت میں تسلیت عرض کرتے ہیں
ہمارے معلم، مربی اور محسن استاد العلما سماحۃ العلامہ السید گلاب علی النقوی البخاری کی برسی پر انکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
مولانا محمد عباس قمی مرحوم کی رحلت پر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے حجت الاسلام و المسلمین علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر صاحب اور مرحوم کے فرزندان اور دیگر اقربا کو تعزیت پیش کی۔
اس وقت اخلاقي رشد کا معيار ، شخصيت کا استقلال اورہر انسان ميں ايماني طاقت ان شرائط کي موجودگي ميں ظاہر ہوتي ہے، جو لوگ اس طرح کي خبيث موجوں کے ساتھ حرکت کرتے ہيں ، فساد کے سمندر ميں غرق ہو جاتے ہيں،
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ قرآن پاک نے بنی آدم کو شرف و مقام، عزت و تکریم عطا فرمائی ہے جبری گمشدگی یابغیر کسی وجہ کے قید میں رکھنا توہین انسانیت کے زمرے میں آتاہے
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے چھ برس پہلے کی بات ہے کہ عظیم تاریخی شہر ملتان کے مغرب میں واقع بستی شیعہ میانی کے مومنین نے اپنے مرشد کامل، عالم ربانی، یکتائے روز، پیکر زہد و تقوی، سید العلماء حضرت علامہ سید محمد باقر نقوی کی خدمت عالیہ میں درخواست کی کہ انہیں ایک عالم دین کی اشد ضرورت ہے جبکہ آپ کے شاگرد رشید مولانا گلاب علی شاہ نقوی البخاری اعلی اللہ مقامہ امتحان سے فارغ ہوچکے تھے اور اپنے عظیم و مہربان اور شفیق استاد کے حکم پر ملتان کی اس پسماندہ لیکن اخلاص ے پر بستی میں تشریف لائے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مسکن اور مکان کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ صحیح نہیں ہے اور فقط خیال و گمان کی بنیاد پر ہے،خود حضرت امام مہدی(عج) کا پردۂ غیبت میں رہنا اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ غیبت کے زمانے میں زندگی گزارنے کے لئے کوئی خاص جگہ اور مکان معین نہیں ہے ، بلکہ زمانۂ غیبت میں آپ مختلف مکانوں اور شہروں میں ناشناس طور پر زندگی گزارتے ہیں ۔( بحار الانوار, جلد 52 ,صفحہ 153،158 )