مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
عاشورا سے اربعین تک کے ایام تاریخ اسلام کے اہم ترین اور تقدیر ساز ایام ہیں
ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی آزادیوں اور حقوق پر قدغن نہ لگائے اور ان کی آزادیوں کی حفاظت کرے اور عزاداری و ماتم داری کے جلوسوں اور مجالس کے انعقاد کے سلسلے میں اپنی انتظامی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ایک نئی مثال قائم کرنے کی اپیل کی اور امید کا اظہار کیا کہ حکومت و انتظامیہ عزاداری کے راستے میں رخنہ اندازی سے گریز کرتے ہوئے اب تک ہونے والے عزاداری مخالف تمام تر اقدامات واپس لے گی
انکی کی رحلت پر حضرت ولی عصر عجل الله تعالی فرجه الشریف، رهبر معظم انقلاب، مراجع عظام، حوزههای علمیه اور آپکے خانوادے کے حضور تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
عالم ربانی،علامه ذوفنون،حکیم اورعارف حضرت آیۃ الله الحاج شیخ حسن زاده آملی (قدس الله نفسه الزکیه) کی رحلت کی خبر سن کر نہایت دکھ اور افسوس ہوا۔
اس عظیم شخصیت کی تحریریں اور دیگر یادگاریں، علم و معرفت کے تشنگان کے لیے ایک پرفیض سرچشمہ تھیں اور رہیں گی، ان شاء اللہ۔
علامہ حسن زادہ آملی 1307شمسی (1928ء) میں ایران کے شہر آمل کے ضلع لاریجان کے گاؤں ایرا میں پیدا ہوئے۔ وہ الہیات کے فلاسفر، فقیہ ، عارف ، ماہرفلکیات اور حوزہ علمیہ کے استاد تھے۔
اسلام آباد میں قومی کانفرنس برائے دفاع عزاداری و تحفظ حقوق تشیع، بعنوان علماء و ذاکرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ ریاض نجفی کا کہنا تھا کہ ملک کے محافظین کا سب سے بڑا نشان، نشان ِحیدر ہے۔ یزیدیت مٹ جائے گی، مگر عزاداری نہیں رکے گی۔
لاہور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل جامعہ بقیتہ اللہ نے کہا کہ انسان کی زندگی فطرت پر استوار ہے، جس میں خوشیاں ہیں اور غم بھی۔غم اور خوشی منانا بھی فطری تقاضا ہے، لیکن اگر یہ قرآن کی تابع نہیں تو وبال جان بن جائے گا۔