مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ شہدائے کربلاءکی یاد اسلامی ،انسانی اقدار کی ترویج کی ضامن ہے۔ اسلامی تعلیمات کے بیان سے مجالسِ عزاتعلیمی اور تربیتی درس گاہوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔قرآنی تعلیمات کے ابلاغ کے لئے منبرِ حُسینی صدیوں سے بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
مدینہ سے روانگی سے قبل اپنے بھائی جناب محمد بن حنفیہ کے نام خط میں لکھا ” میں فتنہ و فساد برپا کرنے یا اپنی شہرت کے لئے نہیںبلکہ اپنے جد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے امور کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں۔میں نے نیکیوں کاحکم دینے،برائیوں سے روکنے اور اپنے جد بزرگوار اور والد علی ابن ابی طالب کی سیرت کی پیروی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔۔۔۔“
محقق محترم، نامور تاریخ دان اور برجستہ و انتھک عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ مہدی پیشوائی کو کی رحلت پر جنہوں نے اپنی پوری عمر تاریخ اسلام کی تدوین اور قابل فخر کتابوں کی تعریف میں گزار دی، بہت دکھ اور افسوس ہوا۔مرحوم کی دقت نظر بے نظیر تھی۔
شیعہ علما ءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدرسبزواری نے عزاداری میں پولیس کی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ پنجاب کو پولیس اسٹیٹ نہ بنایا جائے۔ پولیس میں موجود متعصب عناصر کالعدم ناصبی گروہ کے کارکن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے ایام میں حسینیہ امام خمینی میں مجالس عزا کا انعقاد کیا جائے گا جس میں رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہ ای شرکت کریں گے۔
یومِ آزادی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے اہم پیغام میں کہا کہ آج کے دن قومی پرچم لہراتے ہوئے ہمیں ایمان ،اتحاد تنظیم کے پختہ عزم کا اعادہ کرنا چاہئے، ہم نے ایک متحد، پرامن اور پرعزم قوم کی حیثیت سے ابھرنے کے لئے اپنی تاریخ کے سفر میں کٹھن چیلنجز عبور کیے ہیں۔
عوام اپنے آئینی ، بنیادی اور قانونی حقوق سے کسی صورت دستبردار نہ ہوں اورعزاداری سیدالشہداؑ حسب ِ سابق عقیدت و احترام سے منائیں۔
شیعہ علما ءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدرسبزواری نے واضح کیا ہے کہ عزاداری سید الشہداءملت جعفریہ کی پہچان ہے ۔ اپنی شناخت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ گزشتہ چار سال سے عزاداری کو مشکل بنایا جا رہا ہے ۔
اگر جینا ہے تو اُن سے جڑ جائیں جو مرے نہیں ہیں چودہ سو سال بعد بھی ان دنوں اُن کی یاد ان کے غم ان کے ذکر میں اتنے بڑے بڑے اجتماعات صرف پاکستان ہی میں نہیں پوری دنیا میں ان کی حیات ابدی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو امام مظلوم سے آخر وقت تک جڑے رہے وہ بھی حیات جاوداں پا گئے۔