دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
دوسری طرف آئی کے ایم ٹی کے شعبہ خواتین کی جانب سے بھی زینبیہ حال حیدری محلہ میں ایّام فاطمیہ کے مجالس کا اہتمام کیا گیا، جس میں علماء اور خطباء نے خواتین کے لئے مجالس میں خطاب فرمایا اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی پر روشنی ڈالی۔
پاکستان، ہندوستان، عراق اور لبنان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں ایام فاطمیہ کی مجالس جاری رہیں اور ذاکرین اہلبیت عصمت و طہارت صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے فضائل و مصائب بیان کررہے ہیں۔اس موقع پر عراق کے بھی مقدس شہروں نجف اشرف ، کربلائے معلی ، کاظمین اور سامرا میں زائرین و سوگواروں کی بڑی تعداد موجود ہے اور کورونا ایس او پیز کے تحت دختررسول حضرت زہرا (س) کی مصیبتوں پر ماتم کررہی ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم شہادت کی مناسبت سے سربراہ جامعہ علمیہ کراچی حجۃ السلام والمسلمین سید فیاض حسین نقوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سیدہ کے بارے میں فرامین پیغمبرۖ ایسی حقیقت ہیں کہ جسے تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ جناب سیدہ کا دختر رسولۖ ہونے کے حوالے سے احترام اور عقیدت اپنی جگہ ہے لیکن ان کا یہ پہلو سب سے منفرد اور نمایاں ہے کہ وہ عالم نسواں کے لئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ایام شہادت میں کولمبیا سے تعلق رکھنے والی خاتون "جیزل آبیا کاستیانوس" نے کلمہ شہادتین زبان پر جاری کر کے اسلام قبول کر لیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ تمام مسلم ممالک مل کر گستاخانہ خاکے بنانے والوں کےخلاف آواز بلند کریں۔
وفد نے مراسم زیارت اور نماز کی ادائیگی کے بعد روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے متولی شرعی سید احمد الصافی سے ملاقات بھی کی۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی نےاپنےخطاب میں فرمایا کہ ضروری ہےکہ عراق مجالس عزاء اورواقعہ کربلاء کےالمناک واقعےکی یاد کو باقی رکھنےاور تازہ رکھنےمیں سرفہرست رہے.
حزب اللہ لبنان نے ایک بیان جاری کرکے آستان قدس رضوی اور اس کے متولی کو دہشت گردی میں ملوث اداروں اور افراد کی فہرست میں شامل کرنے کے شرمناک امریکی اقدام کی مذمت کی ہے ۔
یادرہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سے نکلنے کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ایران کے خلاف جھوٹے بہانوں کی بنا پر متعدد پابندیاں عائد کردی ہیں